Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سرد موسم کے باعث سعودی عرب میں روزے ’خوشگوار اور آسان‘

رواں سال سعودی عرب میں رمضان کا مہینے سردی کے موسم میں آیا ہے جس سے درجہ حرارت میں کمی اور روزوں کا دورانیہ کم ہو گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ریاض میں درجہ حرارت 8 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ چل رہا ہے جبکہ ناردرن بارڈرز کے ریجن میں کم سے کم درجہ حرارت 3 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
اس خوشگوار موسم میں رمضان کا مقدس مہینہ چل رہا ہے جو کہ اس سال فروری کے وسط سے مارچ کے وسط تک جاری رہے گا۔
اسلامی ہجری کیلنڈر گریگورین سال کے مقابلے میں تقریباً 11 دن مختصر ہوتا ہے اور رمضان ہر سال کچھ دن پہلے آتا ہے۔
بادلوں سے بھرے ہوئے آسمان اور وقفے وقفے سے ہونے والی بارشوں کی وجہ سے بھی مملکت کے کئی حصوں میں درجہ حرارت کم ہوا ہے اور ٹھنڈے موسم کی مزید پیشگوئی کی جا رہی ہے۔
نیشنل سینٹر آف میٹریولوجی کے مطابق منگل سے لے کر ہفتے کے آخر تک ناردرن ریجن میں موسم سرد رہے گا جبکہ بدھ سے ریاض، قصیم اور مشرقی صوبے میں بھی درجہ حرارت میں کمی دیکھنے میں آئے گی۔
اس کے علاؤہ مشرقی ریجن، ریاض، نجران، جازان، عسیر اور باحہ کے حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری پڑنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ناردرن بارڈرز، الجوف، قصیم اور مدینہ میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کئی شہریوں کے لیے ٹھنڈے موسم میں روزے رکھنا گزشتہ برسوں کی نسبت آسان ہو گیا ہے جب رمضان کا مہینہ بھرپور گرمیوں میں آتا تھا۔
ریاض میں دو دہائیوں سے زائد عرصے سے رہنے والی انڈین ہوم میکر نفیسہ عثمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’سردیوں میں رمضان آتا ہے تو روزے رکھنا آسان ہو جاتے ہیں کیونکہ دورانیہ اور درجہ حرارت کم ہوتا ہے جس سے بھوک اور پیاس نہیں لگتی اور تھکاوٹ نہیں ہوتی۔‘

نیشنل سینٹر آف میٹریولوجی کے مطابق منگل سے لے کر ہفتے کے آخر تک ناردرن ریجن میں موسم سرد رہے گا (فوٹو: اے این، راشد حسن)

پچھلے سال بھی رمضان کے مہینے میں موسم خوشگوار رہا تھا تاہم اس سے قبل مسلمانوں کو لمبے اور گرم دنوں میں روزے رکھنے پڑے تھے۔
دارالحکومت میں پراپرٹی ڈیلر کا کام کرنے والے ثمر العتیبی کہتے ہیں کہ چھوٹے دنوں کی وجہ سے روزہ جلدی کھول لیا جاتا ہے اور شدید درجہ حرارت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’خوشگوار موسم ایک اچھی تبدیلی ہے۔ اس سے روزے سے جسمانی تھکاوٹ نہیں ہوتی۔ ٹھنڈے موسم کی وجہ سے دن کے وقت اور افطار کے بعد گھر سے باہر والے کام بھی کیے جا سکتے ہیں جو گرمیوں کے دوران بہت مشکل تھے۔‘
ریاض میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور محمد اصغر کہتے ہیں کہ ’سردیوں میں روزے رکھنا ہم جیسے لوگوں کے لیے آسان ہیں جو اپنے کام کی وجہ سے افطار کے لیے نہیں رُک سکتے۔ خوشگوار موسم، گرم دن، ٹھنڈی راتوں کی وجہ سے نہ صرف روزہ رکھنا آسان ہو گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر بھی بہتری آئی ہے جس سے اس مہینے کی روحانیت مزید بڑھ گئی ہے۔‘

شہریوں کے لیے ٹھنڈے موسم میں روزے رکھنا گزشتہ برسوں کی نسبت آسان ہو گیا (فوٹو: ایس پی اے)

شاہد انور سیفٹی مینیجر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آؤٹ ڈور میں کام کرنے والوں کے لیے اس ماحول میں روزہ رکھنا آسان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’روحانیت کی جھلک اور اچھے موسم کے امتزاج نے رمضان کو پرلطف بنا دیا ہے۔ خاص طور پر راتوں کو گہما گہمی ہے جس سے روایتی رنگوں نے عوام کو گرمی کے موسم میں گرم دنوں کی نسبت باہر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔‘
 

 

شیئر: