سعودی عرب نے مزید ڈرونز کو فضاء میں ہی روک دیا، برطانیہ کا خطے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ
میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ ایک ڈرون کو مشرقی علاقے میں مار گرایا گیا (فوٹو:اے ایف پی)
سعودی وزارت دفاع کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ مملکت نے بدھ کے روز 9 ڈرونز کو فضاء میں ہی روک دیا۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ ایک ڈرون کو مشرقی علاقے میں مار گرایا گیا اور دو کروز میزائلوں کو الخرج گورنریٹ میں تباہ کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان جاری کیا جس میں ریاض میں واقع امریکی سفارت خانے پر ایران کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔
بیان میں بتایا گیا تھا کہ ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ دو ڈرونز نے اس عمارت کو نشانہ بنایا۔
سعودی وزارت دفاع نے کہا کہ آٹھ ڈرونز کو ریاض اور الخرج کے قریب روکا اور تباہ کیا گیا۔ اس واقعے میں سفارت خانے میں محدود آگ لگی اور معمولی نقصان پہنچا تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ منگل کے روز سفارت خانے میں ایک زور دار دھماکہ ہوا اور آگ کے شعلے نظر آئے۔ ریاض کے سفارتی علاقے میں سیاہ دھواں ااُٹھتا دیکھا گیا، جہاں کئی غیر ملکی مشنز موجود ہیں۔
برطانیہ کی وزیر خارجہ یویٹ کوپر نے ایک پوسٹ میں کہا کہ ’معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے خطرناک حملے ناقابل قبول اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے ہیں۔‘
انہوں نے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب اور خطے میں اس کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان حملوں کا مقابلہ کرے گا۔
برطانیہ کی وزیر خارجہ یویٹ کوپر نے کہا کہ ’ایران کے امریکی سفارت خانے سمیت ریاض پر حملے بالکل ناقابلِ قبول ہیں۔ ہم ان خطرناک اور عدم استحکام پیدا کرنے والے حملوں کی مذمت کرتے ہیں جو معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سعودی عرب اور خطے میں اپنے دیگر شراکت داروں کے ساتھ ان حملوں کے خلاف کھڑے ہیں۔‘
