’چین ہانگ کانگ کو 14منٹ میں ختم کر دیتا‘

صدر ٹرمپ کے مطابق چینی صدر نے ان کے کہنے پر فوج ہانگ کانگ نہیں بھیجی، فوٹو: اے ایف پی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ نہ ہوتے تو چینی فوجیں ہانگ کانگ کو 14 منٹ میں ختم کر دیتیں۔
امریکی ٹیلی ویژن ’فاکس نیوز‘ کے ساتھ جمعے کو ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’صدر شی جن پنگ نے اپنی فوج کو جمہورت پسند مظاہرین کے خلاف ہانگ کانگ بھیجنے سے اس لیے گریز کیا کہ انہوں نے ان سے ایسا کرنے کو کہا تھا۔‘
امریکی صدر کے بقول ’اگر میں نہیں ہوتا تو ہانگ کانگ تو 14 منٹ میں ختم ہو چکا ہوتا۔ ‘
ان کے مطابق چینی صدر کے لاکھوں فوجی ہانگ کانگ کے باہر کھڑے ہیں اور وہ ہانگ کانگ کے اندر صرف اس لیے نہیں جا رہے کہ انہوں نے صدر شی سے کہا تھا کہ ’مہربانی کرکے ایسا نہ کریں۔‘
’میں نے کہا کہ آپ ایسا کرکے بہت بڑی غلطی کر رہے ہوں گے اور اس کے چین اور امریکہ کے درمیان ٹریڈ ڈیل پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘
اپنے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ’بیجنگ اور واشنگٹن تجارتی معاہدے کے بہت قریب ہیں، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں معاہدے پر دستخط کرنے کی جلدی نہیں۔‘
صدر ٹرمپ کے انٹرویو کو جمعے کو ہی دیے گئے چینی صدر کے ایک بیان کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے جس میں شی جن پنگ نے کہا تھا کہ ’چین امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن اگر ضرورت پڑی تو مقابلہ کرنے سے بھی خوفزدہ نہیں ہوگا۔‘

ہانگ کانگ میں ہونے والے مظاہروں میں اب تک ہزاروں افراد زخمی اور گرفتار ہو چکے ہیں (فوٹو: وکی پیڈیا)

امریکی صدر کے مطابق ’ہم ٹریڈ ڈیل کے بہت قریب ہیں۔ وہ مجھ سے زیادہ چاہتے ہیں کہ ڈیل ہو جائے۔ میں اس حوالے سے زیادہ پرجوش نہیں۔‘
یاد رہے کہ ہانگ کانگ میں مظاہروں کا آغاز ’ملزمان کی ٹرائل کے لیے ہانگ کانگ منتقلی‘ کے مجوزہ بل کے خلاف رواں برس 31 مارچ کو ہوا تھا۔ ان مظاہروں میں اب تک ہزاروں افراد زخمی اور گرفتار ہو چکے ہیں۔
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: