’ایرانی رہنماؤں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کریں‘

ایران میں مظاہروں پر قابو پانے کے لیے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا (فوٹو اے ایف پی)
امریکی محکمہ خارجہ نے فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر سے مطالبہ کیا ہے وہ ایرانی رہنماؤں کے اکاؤنٹس اس وقت تک کے لیے معطل کر دے جب تک ایران ملک میں انٹرنیٹ کی سہولت بحال نہیں کر دیتا۔ 
ایران میں حکومت نے ایک ہفتہ قبل پرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کے لیے انٹرنیٹ پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ 
امریکہ کے خصوصی نمائندہ برائے ایران برائن ہک کا بلوم برگ کو دیا گیا انٹرویو محکمہ خارجہ کے آفیشل اکاؤنٹ پر جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’یہ ایک انتہائی منافقانہ حکومت ہے‘۔ 
’اس نے انٹرنیٹ بند کر دیا ہے جبکہ حکومت تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا استعمال کر رہی ہے۔‘ 
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم فیس بک اور انسٹاگرام اور ٹوئٹر جیسی سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ رہبر اعلیٰ خمینہ ای، وزیرخارجہ جواد ظریف اور صدر روحانی کے اکاؤنٹس بند کر دے جب تک وہ اپنے عوام کے لیے انٹرنیٹ بحال نہیں کرتے۔‘  
خیال رہے کہ ایران میں 15 نومبر سے مظاہروں کا آغاز ہوا تھا، جو گیسولین کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافے کے اعلان کے بعد شروع ہوئے تھے۔

مظاہرے گیسولین کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافے کے اعلان کے بعد شروع ہوئے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی

اس کے اگلے دن حکومت نے پرتشدد مظاہروں کی ویڈیوز پر قابو پانے کی کوشش میں ایرانی عوام کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت محدود کر دی تھی۔ 
حکومتی اہلکاروں کے مطابق ان مظاہروں میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ہلاکتوں کی تعداد 100سے زائد بتائی تھی۔ 
برائن ہک کا کہنا تھا ’حکومت نے انٹرنیٹ بند کیا کیونکہ وہ اموات اور ساںحے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے جس نے ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین کو متاثر کیا ہے۔‘ 
فیس بک اور انٹساگرام کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم خبررساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے ٹوئٹر سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ٹوئٹر نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ 
 

شیئر: