فلسطین کے لیے ارکانِ کانگریس کا احتجاج

ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قوانین سے متصادم نہیں ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کے مقبوضہ غرب اردن میں اسرائیلی بستیوں کو قانونی قرار دینے سے متعلق بیان پر امریکی کانگریس کے 107 ممبران نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
گذشتہ پیر کو سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ امریکہ غرب اردن میں اسرائیلی آبادیوں کو غیر قانونی تصور نہیں کرتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق مائیک پومپیو کے اس بیان پر احتجاج کرتے ہوئے ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے 107 ممبرانِ کانگریس نے وزیر خارجہ کو خط لکھا ہے جس میں امریکہ کی اسرائیل کے حوالے سے پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے بیان کی مذمت کرنے والے ممبران میں مسلمان اور مسیحوں کے علاوہ یہودی ممبران بھی شامل ہیں۔
مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ’مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قوانین سے متصادم نہیں ہے۔‘
ان کے بقول غرب اردن میں اسرائیلی آبادیوں کو غیر قانونی قرار دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور نہ ہی امن کے عمل میں پیش رفت ہو سکی۔
کانگریس ممبران کی جانب سے مذمتی خط میں ٹرمپ انتظامیہ کے فلسطین تنازعے کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کو پرتشدد اور امن کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل کو یروشیلم کا دارالحکومت اور گولان ہائیٹس پر اسرائیل کا قبضہ تسلیم کیا تھا۔
امریکہ نے فلسطین کو دی جانے والی امداد بھی روک دی تھی اور امریکہ میں فلسطینی سفارتی مشن بند کر دیا تھا۔  

کانگریس اراکین نے حکومتی پالیسیوں کو اسرائیل اور امریکہ کے لیے خطرناک قرار دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

کانگریس کے ارکان نے خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ مائیک پومپیو کا بیان دو ریاستی حل کے امکانات کو ’تباہ‘ کر دے گا۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کا یہ فیصلہ اسرائیل اور امریکہ کی سکیورٹی کے لیے بھی خطر ناک ثابت ہوگا۔
’بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر کے اس انتظامیہ نے امریکہ کی اخلاقی حیثیت کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور امریکی اقدار پر عمل نہ کرنے والوں کو خطرناک پیغام دیا ہے۔ اگر امریکہ یکطرفہ طور پر بین الاقوامی اور انسانی حققوق کے قوانین ترک کرے گا تو ہم مزید غیر منظم اور خوفناک اکیسویں صدی کی امید کر سکتے ہیں۔‘
امریکی کانگریس 435 ممبران پر مشتمل ہے جن میں 233 کا تعلق ڈیموکریٹ اور 197 کا تعلق ریپبلیکن پارٹی سے ہے جبکہ ایک رکن آزاد ہے۔

شیئر: