Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کانگریس میں ایران جنگ پر پہلی بار ووٹنگ، امریکی مقاصد کے حوالے سے بحث مزید تیز

صدر ٹرمپ نے ایران میں زمینی کارروائی کا ارادہ ظاہر کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی سینیٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر ووٹنگ کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ اس جنگ میں امریکہ کے مقاصد کے حوالے سے بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تیزی سے مشرق وسطیٰ تک پھیلنے والی اس جنگ سے نکلنے کے حوالے سے امریکہ کے پاس کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ’وار پاورز ریزولوشن‘ کے نام سے جانی جانے والی قانون سازی سے ارکان کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ مزید حملوں سے قبل اقدام کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل کرنے کا مطالبہ کریں۔
سینیٹ کی قرارداد اور بل پر رواں ہفتے کے اواخر میں ایوان میں ووٹنگ ہو رہی ہے جس کو ریپبلکن کے زیر کنٹرول کانگریس میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور چاہے وہ پاس بھی ہو جائے تب بھی اس کو یقینی طور پر صدر ٹرمپ کی طرف سے ویٹو کردیا جائے گا۔
تاہم ووٹنگ کی اس مشق کو قانون سازوں کے لیے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے وہ ایک ایسی جنگ جس میں صدر ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر داخل ہوئے، کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔
سینیٹ کے ڈیموکریٹک رکن چک شومر نے منگل کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’واضح مقاصد کے بغیر جنگیں چھوٹی نہیں رہتیں، وہ بڑی، خونی، طویل اور مہنگی ہو جاتی ہیں۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’یہ کوئی ضروری جنگ نہیں چوائس کی جنگ ہے۔‘

اس وقت ریپبلک پارٹی کو ایوان میں اکثریت حاصل ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ٹرمپ انتظامیہ کانگریس کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں

سنیچر کو ایران پر اچانک حملے کے بعد صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکار رواں ہفتے کیپٹل ہل پر کثرت سے نظر آ رہے ہیں اور قانون سازوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صورت حال ان کے قابو میں ہے۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم فوجیوں کو نقصان کی راہ پر ڈالنے والے نہیں۔‘
تاہم اتوار کو کویت میں ایک ڈرون حملے میں چھ امریکی فوجی مارے گئے تھے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایران میں زمینی فوج بھی اتاری جا سکتی ہے اور انہیں امید ہے کہ چند ہفتوں میں بمباری کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
تاہم جنگ کے حوالے سے ان کے اہداف بدلتے بھی دکھائی دے رہے ہیں پہلے ان کا موقف حکومت کی تبدیلی تھا مگر اب ایران کو جوہری صلاحیتوں میں اضافے سے روکنا اور میزائل پروگراموں کو ناکام بنانا ہے۔
سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون نے منگل کو بیان میں کہا کہ ’میرے خیال میں اب تک جو کچھ ہوا ہے اس میں کافی کامیابیاں ملی ہیں اور اب ملک میں آگے کی صورت حال ایران کے عوام پر منحصر ہو گی۔‘
تقریباً تمام ہی ریپبلکن ارکان جنگ ختم کرنے کے لیے بدھ ووٹ ڈالنے کے لیے تیار ہیں تاہم ایسے بھی کافی ہیں جو ایران میں زمینی فوج اتارنے کے معاملے پر ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

شیئر: