Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ کے باوجود ایرانی ویمن فٹبال ٹیم کی کھلاڑیوں کی توجہ ایشین کپ پر مرکوز

ایران گروپ اے میں اپنا پہلا میچ جنوبی کوریا سے ہار گیا تھا۔ فوٹو: سکرین گریب
ایرانی فٹبال ٹیم کی کھلاڑی سارہ دیدار اُس وقت بمشکل آنسو روک پائیں جب صحافیوں نے اُن سے ملک میں بڑھتے ہوئے فوجی تنازعے کے بارے میں پوچھا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ٹیم کی کوچ مرضیہ جعفری نے کہا ہے کہ ان کی کھلاڑی اپنے گھر والوں کی فکر کے باوجود ویمنز ایشین کپ میں مقابلوں پر توجہ مرکوز کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں حالیہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے اختتام ہفتہ ایران پر فضائی حملے کیے جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت ہوئی۔ حملوں کے بعد ایران نے جزیرہ نما عرب کے ممالک پر میزائل داغے۔
21 سالہ سارہ دیدار نے بدھ کو کہا کہ ’ظاہر ہے کہ ہم سب ایران اور وہاں ہمارے خاندانوں اور پیاروں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس پر فکر مند اور غمزدہ ہیں۔ لیکن مجھے امید ہے کہ یہ ہمارے ملک کے لیے اچھا ہوگا، آگے اچھی خبریں ہیں اور مجھے امید ہے کہ میرا ملک مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔‘
ایران پیر کو گروپ اے کا اپنا پہلا میچ جنوبی کوریا سے 3-0 سے ہار گیا اور جمعرات کو ایرانی ٹیم کا میزبان آسٹریلیا سے گولڈ کوسٹ سٹیڈیم میں مقابلہ ہوگا۔
آسٹریلیا کی مڈفیلڈر ایمی سائر نے اس سے قبل اپنے وطن میں سیاسی بدامنی اور فوجی حملوں کا سامنا کرنے کے باوجود براعظمی ٹورنامنٹ میں حصہ لینے پر ایرانی کھلاڑیوں کی ہمت کی تعریف کی تھی۔
کوچ مرضیہ جعفری نے کہا کہ ایرانی ٹیم اپنے آسٹریلیا میں بسنے والے اپنی ایرانی مداحوں کے لیے باعثِ فخر بننا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ایران میں اپنے خاندانوں اور لوگوں کے حوالے سے بہت زیادہ تشویش ہے۔ کوئی بھی جنگ پسند نہیں کرتا، لیکن یہاں ہم پروفیشنل فٹ بال کھیلنے آئے ہیں اور ہم اپنے کھیل پر توجہ مرکوز کرنے اور اگلے میچ کے لیے پوری تیاری کرتے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’یہاں کے ایرانی-آسٹریلیائی باشندے ہماری حمایت کرتے ہیں، ہمیں ایک ایسا ملک ملنے پر بہت خوشی ہے کہ تمام لوگ متحد اور تعاون کرنے والے ہیں اور ہم ان سے محبت کرتے ہیں اور ہم پوری کوشش کریں گے کہ اُن کو ہم پر فخر ہو۔‘

شیئر: