سرحد پر شدید جھڑپیں: آٹھ ہزار سے زائد افغان شہری بے گھر، کشیدگی میں مسلسل اضافہ
سرحد پر شدید جھڑپیں: آٹھ ہزار سے زائد افغان شہری بے گھر، کشیدگی میں مسلسل اضافہ
منگل 3 مارچ 2026 15:58
عینی شاہدین نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ کئی خاندان ہنگامی طور پر محفوظ مقامات کی طرف بھاگے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں گزشتہ چند دنوں سے جاری شدید جھڑپوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں آٹھ ہزار سے زائد افغان شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی نے افغان حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ نقل مکانی اس وقت شروع ہوئی جب دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان سرحد کے آس پاس گولہ باری اور فضائی کارروائیوں میں اچانک اضافہ ہوا۔
افغان طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ متعدد دیہات مسلسل گولہ باری کی زد میں ہیں جس سے صرف جانی نقصان نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر لوگ اپنی بستیوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ کئی خاندان ہنگامی طور پر محفوظ مقامات کی طرف بھاگے جبکہ بہت سے لوگ بنیادی ضروریات کے بغیر پھنسے ہوئے ہیں۔
افغانستان کی وزارتِ دفاع نے ملک کے کم از کم سات صوبوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ’شدید جوابی کارروائیوں‘ کی تصدیق کی ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نئی فضائی کارروائیوں میں کابل، بگرام اور قندھار کے نزدیک متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم افغان حکام نے بگرام پر حملے میں کسی جانی نقصان کی تردید کی ہے۔
پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بگرام کے قریب کارروائی ’مصدقہ انٹیلی جنس‘ کی بنیاد پر کی گئی، جس کا مقصد ان عناصر کی سپلائی لائن کو منقطع کرنا تھا جو سرحدی علاقوں میں پاکستان کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں۔ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ ’سرحدی جارحیت‘ کا جواب اپنے منتخب کردہ وقت اور جگہ پر دینے کا حق رکھتا ہے۔
دوسری جانب کابل اور جلال آباد میں رات کے وقت دھماکوں اور فضائی جہازوں کی پروازوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ تورخم سرحد کے قریب مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ جھڑپیں مسلسل جاری ہیں۔
دونوں ممالک کی جانب سے فوجی ہلاکتوں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں (فوٹو: اے ایف پی)
افغان حکام کے مطابق اب تک کم از کم39 شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بچوں کی ہلاکتوں پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
دونوں ممالک کی جانب سے فوجی ہلاکتوں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کشیدگی اکتوبر کے بعد سب سے شدید مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جب سرحدی جھڑپوں میں 70 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔