بلوچستان میں 52 افراد غیرت کے نام پر قتل

خواتین پر تشدد کے بڑھتے واقعات کی روک تھام اور خواتین کے حقوق سے آگاہی کے لیے 16 روزہ مہم شروع کی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گذشتہ 11 ماہ کے دوران غیرت کے نام پر 52 افراد کو قتل کیا گیا۔ ان میں سے نصف واقعات صرف تین اضلاع نصیر آباد، جعفر آباد اور کچھی میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاﺅنڈیشن کے بلوچستان میں ڈائریکٹر علاؤ الدین خلجی نے اردو نیوز کو بتایا کہ بلوچستان میں ہر دوسرے دن ایک عورت قتل یا تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔
صوبے میں جنوری سے نومبر تک خواتین پر تشدد کے 118 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ان واقعات میں 69 خواتین اور 11 مرد قتل ہوئے۔ سب سے زیادہ 43 خواتین اور نو مردوں کو غیرت کے نام پر سیاہ کاری کا نام دے کر قتل کیا گیا۔ گذشتہ سال بھی 35 خواتین اور 19 مرد غیرت کے نام پر قتل ہوئے تھے۔
علاؤ الدین خلجی کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے واقعات سب سے زیادہ نصیر آباد اور اس سے ملحقہ اضلاع جعفرآباد اور کچھی میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ نصیر آباد میں اس سال 16، جعفرآباد میں آٹھ اور ضلع کچھی میں پانچ افراد کو قتل کیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں مقتولین پر بظاہر ناجائز جنسی تعلقات کا الزام لگایا جاتا ہے مگر اصل محرکات کچھ اور ہوتے ہیں۔
باہمی تنازعات، لین دین اور جائیداد کے جھگڑوں کی وجہ سے بھی لوگوں کو قتل کرکے انہیں ’سیاہ کار‘ کہا جاتا ہے۔ ایسے واقعات کو رسم و رواج اور قبائلی روایات کا نام دے دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پولیس اور انتظامیہ بھی ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے سے کتراتی ہے۔
علاؤ الدین خلجی نے بتایا کہ نصیر آباد ڈویژن میں خواتین کو وراثت کے حق سے محروم کرنے کے لیے ان کی قرآن سے شادی کرانے کے واقعات کی شرح بھی زیادہ ہے۔ جو خواتین ایسا نہیں کرتیں انہیں غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔

صوبے میں گذشتہ سال 17 عورتوں نے گھریلو حالات سے تنگ آ کر خودکشی کی (فوٹو: ٹوئٹر)

اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں رواں سال خواتین پر گھریلو تشدد کے صرف تین واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ چار خواتین اغوا ہوئیں۔ گھریلو تشدد کے واقعات یقیناً اس سے زیادہ ہیں مگر بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں انہیں رپورٹ نہیں کیا جاتا۔ خواتین پر تیزاب پھینکنے کے تین واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
عورت فاؤنڈیشن کے مطابق صوبے میں گذشتہ سال 17 عورتوں نے گھریلو حالات سے تنگ آ کر خودکشی کی۔ خودکشی کے چھ واقعات صرف ایک ضلعے لورالائی میں رپورٹ ہوئے۔ ان واقعات کی وجہ غربت، بے روزگاری اور گھریلو جھگڑے ہیں۔
بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن ہما فولادی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کی حالات زار بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں سیاسی، تعلیمی، مالی اور انتظامی طور پر مستحکم کیا جائے اور انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں نمائندگی دی جائے ۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین پر تشدد کے بڑھتے واقعات کی روک تھام اور خواتین کے حقوق سے آگاہی کے لیے 16 روزہ مہم شروع کی گئی ہے۔
عورت فاﺅنڈیشن، محکمہ ترقی نسواں اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین سمیت دیگر مقامی تنظیموں کی اس مشترکہ مہم میں پارلیمنٹرینز کے ساتھ میٹنگ، سیمینار، واک اور مباحثوں کا انعقاد ہوگا۔
مختلف سکولوں اور تعلیمی اداروں میں بھی آگاہی سیشن رکھے جائیں گے تاکہ نوجوان نسل کو خواتین کے حقوق کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی مل سکے ۔
ہما فولادی کے مطابق اس مہم کے دوران حکومت کو 21 نکاتی مطالبات بھی پیش کیے گئے ہیں جن میں خواتین کے لیے صوبائی کمیشن بنانے، کم عمری کی شادی کی روک تھام، تیزاب سے متاثرہ خواتین کی بحالی کے لیے جلد از جلد قانون سازی کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔ 
انسداد ہراسانی اور گھریلو سطح پر ہونے والے تشدد کے خلاف بنائے گئے قانون پر عملدآمد، صوبائی کابینہ میں خواتین کو موثر نمائندگی دینے اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں خواتین کے لیے ڈے کیئر سینٹرز اور دیگر سہولیات کی فراہمی بھی ہمارے مطالبات کا حصہ ہے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: