قالینوں پر’صدیوں کا سفر‘

شاہراہ قراقرم سے قریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گلمت گاؤں کا یہ کچا مکان یہاں آنے والے سیاحوں کو کچھ دیر کے لیے وادیِ ہُنزہ کے قدیم گھروں میں لے جاتا ہے۔ کچی مٹی کے در و دیوار، چھت پر نقش و نگار اور کمرے کے درمیان چُولھا، جہاں کبھی بزرگ اور گھر کی خواتین سب ایک ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ مگر اب اس کچے مکان میں ایک کارپٹ سینٹر ہے جسے مقامی خواتین چلاتی ہیں۔ ایک طرف قدیم ثقافت اور رہن سہن کی جھلک تو دوسری طرف جدید دور میں ہاتھ کے بنے قالین اور ان پر بنائے گئے ڈیزائن صدیوں پرانی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔ 
ہاتھوں سے تیار کردہ کارپٹ اور ان پر روایتی مگر دلکش ڈیزائن سینٹر میں آنے والے سیاحوں کو ماضی سے واپس حال میں لے آتے ہیں۔ کارپٹ سینٹر کی شمیم بانو کہتی ہیں کہ ’ہمارے مقامی گائیڈ سیاحوں کو ہماری دکان پر لے کر آتے ہیں اور وہ ہم سے کچھ نہ کچھ خرید بھی لیتے ہیں، لیکن ہمارے کام کی مارکیٹنگ کا مسئلہ اب بھی موجود ہے۔‘ 
بظاہر دیکھنے میں آسان مگر ہاتھ سے ایک کارپٹ تیار کرنے میں ہفتے اور بڑے سائز کی کارپٹ تیار کرنے میں تو مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔ بقول بانو ’ ون بائی ون سائز کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کو بنانے میں قریباً 15 دن لگتے ہیں اور ایک کارپٹ پر دو تین لوگ مل کر کام کرتے ہیں۔‘ 
بانو مزید کہتی ہیں کہ ’یہ مکمل طور پر قدرتی ڈائی ہے، اس میں بھیڑ کا اُون استعمال کرتے ہیں، اسی لیے اس پر بہت زیادہ محنت ہوتی ہے۔‘
1998 میں ہنزہ کی مقامی تنظیم قراقرم ایریا ڈویلپمنٹ (کاڈو) نے 30 خواتین کو کارپٹ ویونگ، تھریڈ ڈائی اور ڈیزائننگ کا ہنر سکھانے کے لیے ایک تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔اسی ورکشاپ میں خواتین نے مقامی ڈیزائنز کے ساتھ ساتھ افغانستان کے ٹرینر سے افغان کارپٹ بنانے اور اس کی مارکیٹنگ کرنے کے گُر بھی سیکھے۔
 2005 میں قریباً سات سال کاڈو کے ساتھ منسلک رہنے کے بعد تربیت یافتہ 18 خواتین نے اپنا کام شروع کرنےکی ٹھانی اور آج ان میں سے 12 خواتین گذشتہ 14 برسوں سے اس کارپٹ سینٹر کو کامیابی سے چلا رہی ہیں۔ 

گلمت میں سیاحوں کی آمد کے ساتھ مقامی قالینوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے، فوٹو: اردو نیوز

اس سینٹر کی خاص بات یہ ہے کہ ہنزہ اور وادی گوجال کے اصل ڈیزائن اور کہیں ملیں نہ ملیں لیکن کارپٹ سینٹر سے آپ کو ضرور ملیں گے۔ شاید اسی لیے روایتی کارپٹ کے شوقین سیاح گلمت کے اسی سینٹر کا رخ کرتے ہیں۔ 
بانو کا کہنا ہے کہ ’کچھ ہمارے روایتی ڈیزائنز ہیں، کچھ افغان کارپٹ سے نقل کرتے ہیں۔ لوگ ہمارے مقامی ڈیزائنز زیادہ پسند کرتے ہیں۔‘
ہنزہ کے مقامی ڈیزائنز میں سے ایک ایسا بھی ہے جو خواتین شادی بیاہ میں پہنتی تھیں۔ اسے مقامی زبان میں چسکور بھی کہتے ہیں جو سیاحوں میں بھی کافی مقبول ہوا ہے۔ 
گلمت میں سیاحوں کی آمد کے ساتھ جہاں مقامی کارپٹ کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے وہیں اب گھروں میں سجاوٹ کے لیے بھی کارپٹ تیار کیے جانے لگے ہیں۔ عام طور پر سیاح کارپٹ کے چھوٹے پیس پسند کرتے ہیں جسے وہ بطور سجاوٹ گھروں میں استعمال کرتے ہیں۔ 

کئی خواتین گھروں میں تیار کردہ مصنوعات لا کر کارپٹ سینٹر میں فروخت کے لیے رکھ دیتی ہیں، فوٹو: اردو نیوز

ان خواتین نے خود تربیت حاصل کرنے کے بعد دوسرے علاقوں کی خواتین کو بھی کارپٹ تیار کرنے کی تربیت فراہم کی ہے جن میں گولکن، حسینی، چُپرسن شامل ہیں۔ ان علاقوں کی کئی خواتین گھروں میں بھی کام کرتی ہیں اور اپنی تیار کردہ مصنوعات کارپٹ سینٹر میں لا کر فروخت کے لیے رکھتی ہیں جنہیں سیاح خرید لیتے ہیں۔
دکان پر محدود جگہ ہونے کے باعث کئی خواتین گھروں میں ہی رہ کر کام کرتی ہیں۔ ’ہمارے پاس جگہ بہت کم ہے، ہم کارپٹ بناتے اور فروخت بھی یہیں پر کرتے ہیں۔‘ 
کارپٹ خریدنے کے بہانے سیاحوں کو اس کارپٹ سینٹر میں ہنزہ کے روایتی گھروں کی ایک جھلک بھی مل جاتی ہے۔اس گھر کو دیکھ کر وادی کے  پرانے کچے گھروں اور لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں کافی کچھ پتا چلتا ہے۔  

کچی مٹی کے در و دیوار اور اس کچے مکان میں اب ایک کارپٹ سینٹر موجود ہے، فوٹو: اردو نیوز

پہلے زمانے میں سونے کے لیے بھی یہ ہی جگہ تھی اور کھانے پینے کے لیے بھی۔’موسم بہار کی آمد پر ہم گھر کی صفائی کرتے ہیں، مطلب سردیوں کو ہم باہر ڈالتے ہیں، موسم بہار کو خوش آمدید کہتے ہیں تو اس وقت ہم سارا گھر سجاتے ہیں۔‘
ہنزہ کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتے دکھائی دیتی ہیں اور کارپٹ سینٹر کی خواتین بھی اسی سوچ پر عمل پیرا ہیں۔  ’ہم خود اپنے ہاتھوں سے کماتے ہیں، کسی سے مانگتے نہیں ہیں۔ اپنے گھر میں ہم ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ اپنے شوہر اور اپنے والدین کی۔‘

شیئر: