لاہور ..... وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے اوبر اور کریم ٹیکسی سروسز فوری بحال کرنے کا اعلان کردیا۔ تحویل میں لی جانے والی تمام گاڑیاں چھوڑنے کی ہدایت کردی ۔ دونوں کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 2ہفتے میں قانونی تقاضے پورے کریں۔ ادھر سندھ حکومت نے سروس کو ریگولیٹ کرانے کےلئے ایک ماہ کی مہلت دے دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے اوبر اور کریم ٹیکسی سروسزکی فراہمی کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو رپورٹ تیار کرکے انہیں پیش کرے گی۔ لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیرمین عمر سیف کا کہنا تھا کہ اوبراور کریم کو خود پاکستان لے کر آئے ہیں اور ٹیکسی سروسز ہماری معاونت سے ہی شروع ہوئی ہے تاہم ان کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنا ضروری ہے۔ عمر سیف نے کہا کہ حکومت نے کمپنیوں پر پابندی سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا البتہ ٹیکسی کی سروس فراہم کرنے کےلئے نیا طریقہ کار طے کیا جائے گا کیونکہ اوبر اور کریم پاکستان میں کوئی ٹیکس ادا نہیں کررہے۔ انہیں قانون اور ٹیکس کے دائرے میں لائیں گے اور نئے ٹیکس قوانین کے تحت باضابطہ کاروبار کے طور پر رجسٹر کرینگے۔دوسری جانب سندھ حکومت نے بھی کراچی میں کیب سروس مہیا کرنے والی دونوں کمپنیوں ”اوبر“ اور”کریم“ کی گاڑیاں بند کرنے کیلئے ڈی آئی جی ٹریفک کو خط لکھ دیا ہے اور سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ایک ماہ کی مدت میں ریگولیٹ کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔ڈی آئی جی ٹریفک کراچی آصف اعجازشیخ کے مطابق پرائیویٹ گاڑیوں کوٹیکسی پرچلانا غیرقانونی ہے۔ آج سے پرائیویٹ ٹیکسی چلانے والوں کے خلاف مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ پرائیویٹ گاڑیوں کو کمرشل کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے سیکریٹری ٹرانسپورٹ طحٰہ فاروقی کا کہنا تھا کہ نجی کمپنیوں کو ٹیکسیاں چلانے کیلئے 3 قسم کے اجازت نامے حاصل کرنا ہوتے ہیں، اس کے علاوہ محکمہ ایکسائز سے روٹ پرمٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرنا بھی لازمی ہے۔ 6 ماہ قبل نوٹس جاری کرنے کے باوجود کمپنیوں نے قانون پر عمل درآمد نہیں کیا۔ دونوں کمپنیوں کو بارہا نوٹسز بھیج چکے ہیں۔ وزیرٹرانسپورٹ سندھ ناصرشاہ کا کہنا ہے کہ ٹیکسی سروس پرپابندی پنجاب حکومت نے لگائی ہے، ہم بھی ٹیکسی سروس کو بند کرنا چاہتے تو کردیتے لیکن یہ سروس بند نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ٹرانسپورٹ کے دیگر ذرائع کی حالت زار بھی بہتر نہیں۔ اسلئے ہم نے نجی ٹیکسی سروس کونوٹس بھجوایا ہے تاکہ کمپنیاں کم از کم قانونی تقاضے تو پورا کریں۔








