Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

میٹر رینٹ یا فکسڈ چارجز؟ بجلی کے بلوں میں چُھپے اس نئے اضافے کی حقیقت کیا ہے؟

حکومت کو چاہیے کہ کیپیسٹی چارجز والے پرانے پلانٹس کو ریٹائر کر کے نئی پلانٹس متعارف کروائے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں بجلی کے صارفین فکسڈ چارجز میں کی جانے والی تبدیلیوں کے سبب متاثر ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے بلوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے صارف محمد علی بھی اس صورتحال سے پریشان ہیں جہاں اُن کا جنوری اور فروری 2026 کے بل بجلی کا استعمال کم ہونے کے باوجود ان کے بل زیادہ آیا۔
اس اضافے کی وجہ یہ ہے کہ نیپرا نے بجلی کے نئے ٹیرف میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے فکسڈ چارجز کو کھپت کی بجائے صارفین کے منظور شدہ لوڈ کے ساتھ منسلک کر دیا جس کے بعد بلوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
نئے نظام کے تحت فکسڈ چارجز اب ماہانہ بنیاد پر فی کلوواٹ لوڈ کے حساب سے وصول کیے جائیں گے جبکہ پہلے یہ چارجز صرف بجلی کے استعمال یعنی یونٹس کے مطابق عائد ہوتے تھے اور زیادہ تر صرف 300 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والے صارفین تک محدود تھے۔
واضح رہے کہ نیپرا نے حکومت کو جنوری 2026 میں اجازت دی تھی کہ وہ فکسڈ چارجز اب کھپت کی بجائے فی کلوواٹ لوڈ کے حساب سے وصول کرے۔
نیپرا کی منظوری کے بعد اب لائف لائن صارفین کے علاوہ قریباً تمام گھریلو صارفین پر یہ چارجز لاگو ہو چکے ہیں، چاہے ان کی بجلی کی کھپت کم ہی کیوں نہ ہو۔ 
نئے ٹیرف کے مطابق فکسڈ چارجز مختلف سلیبز میں قریباً 200 روپے سے 675 روپے فی کلوواٹ ماہانہ تک ہیں جس کے باعث کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین بھی زیادہ بل ادا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
بجلی کے لوڈ سے مراد کیا ہے؟
صارفین اس وقت سب سے زیادہ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ لوڈ کیا ہے اور پہلے کھپت سے کیا مراد تھی۔ بجلی کے بل میں یونٹس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے کتنی بجلی استعمال کی جبکہ لوڈ سے مراد وہ زیادہ سے زیادہ گنجائش ہے جو آپ کے گھر یا کاروبار کے بجلی کے کنکشن میں دستیاب ہے۔
مثال کے طور پر چھوٹے گھر کا لوڈ 2 کلوواٹ، عام گھر کا لوڈ 5 کلوواٹ اور بڑے گھر یا فلیٹ کا لوڈ 10 کلوواٹ ہو سکتا ہے۔
نیپرا کے نئے نظام کے تحت فکسڈ چارجز اسی منظور شدہ لوڈ کے حساب سے عائد کیے جائیں گے، چاہے آپ نے اتنی بجلی استعمال کی ہو یا نہیں۔
اگر آپ کا لوڈ 5 کلوواٹ ہے اور فی کلوواٹ چارج 675 روپے ہے تو فکسڈ چارج  675 کے حساب سے 3375 روپے جبکہ لوڈ 2 کلوواٹ والے صارفین کے لیے یہ ماہانہ 400 روپے تک بنتا ہے۔

نیپرا کے نئے نظام کے تحت فکسڈ چارجز اسی منظور شدہ لوڈ کے حساب سے عائد کیے جائیں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

فکسڈ چارجز میں اس تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اسلام آباد میں مقیم توانائی کے ماہر ڈاکٹر خالد ولید کے مطابق چونکہ پاکستان کی قومی گرڈ سے بجلی کی کھپت مسلسل کم ہو رہی ہے اور کیپیسٹی چارجز صرف بجلی کے زیادہ استعمال سے پورے ہو سکتے ہیں، اس لیے حکومت نے گرڈ سے منسلک تمام صارفین پر لوڈ کے حساب سے فکسڈ چارجز عائد کر دیے ہیں، تاکہ چاہے وہ بجلی استعمال کریں یا نہ کریں، مخصوص رقم حکومت کو ادا کریں۔
’دوسری وجہ یہ ہے کہ جو وہ صارفین جو اپنی منظور شدہ کیپیسٹی سے زیادہ سولر پینل لگا چکے ہیں، بھی نئے فکسڈ چارجز کے دائرے میں آ جائیں گے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ یہ فکسڈ چارجز بجلی کے بل میں میٹر رینٹ کے باکس میں دکھائی دے رہے ہیں، صارفین شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ میٹر رینٹ ہے، لیکن حقیقت میں یہ میٹر رینٹ نہیں بلکہ اصل میں فکسڈ چارجز ہیں۔
ڈاکٹر خالد کے مطابق اس اقدام سے صارفین کے بلوں پر واضح اثر پڑ رہا ہے، خاص طور پر وہ صارفین جو پروٹیکٹڈ زمرے میں شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’مستقل حل یہ ہو سکتا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ کیپیسٹی چارجز والے پرانے پلانٹس کو ریٹائر کر کے نئی پلانٹس متعارف کروائے جو ٹیک اینڈ پے کی بنیاد پر چلیں۔‘
کراچی میں مقیم توانائی کے ماہر انیل ممتاز کے مطابق ’فکسڈ چارجز عائد کرنا ہی بجلی کے قوانین کے مطابق درست نہیں کیونکہ نیپرا کے رولز اینڈ ریگولیشنز میں ان کی واضح تعریف موجود نہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’صارفین سے بجلی استعمال کرنے یا نہ کرنے کے باوجود مخصوص رقم وصول کرنا کسی طور قابل جواز نہیں ایسے اقدامات پاکستان کے انرجی صارفین کے لیے مزید مسائل پیدا کر رہے ہیں۔‘

شیئر: