Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بارشوں کا طاقتور نظام ملک میں داخل، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں کا امکان

پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور ملک کے مغربی اور وسطی علاقوں پر ایک طاقتور موسمی نظام اثرانداز ہے جس کے باعث کئی اضلاع میں شدید بارشیں اور تیز ہوائیں چل رہی ہیں۔ 
بلوچستان میں بارشوں کے نتیجے میں کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، متعدد کچے مکانات منہدم ہوئے اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث ٹریفک متاثر ہوئی۔ سیلابی ریلوں میں بہنے والی کئی گاڑیوں کے 20 سے زائد مسافروں کو زندہ بچالیا گیا۔
محکمہ موسمیات کوئٹہ مرکز کے میٹرولوجسٹ محمد اسلم نے اردو نیوز کو بتایا کہ مغربی ہواؤں کی تیز لہروں پر مشتمل طاقتور موسمی نظام ملک میں داخل ہو گیا ہے اور اس کا مرکز خاص طور پر جنوب کی جانب سندھ اور بلوچستان کی طرف رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ بحیرہ عرب سے بڑی مقدار میں نمی فضا میں داخل ہو رہی ہے جس سے موسم شدید غیر مستحکم ہو سکتا ہے اور کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر بارشوں کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سسٹم کا سب سے زیادہ اثر خیبر پختونخوا، شمالی اور وسطی بلوچستان پر ہوگا۔ افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں 100 سے 150 ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش ہوسکتی ہے۔ 
’بعض علاقوں میں گرج چمک، تیز آندھی، طوفانی ہوائیں اور شدید ژالہ باری بھی متوقع ہے۔ بالائی علاقوں میں پہاڑوں سے پانی کے ریلے تیز بہاؤ کے ساتھ آسکتے ہیں اور ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔‘
محمد اسلم نے کسانوں کو ہدایت کی کہ وہ اپریل کے پہلے ہفتے میں اپنی گندم کی فصل کی کٹائی احتیاط سے کریں اور کھلی فصل کو محفوظ بنانے کے اقدامات کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔‘
محکمہ موسمیات کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران گوادر، اورماڑہ، پنجگور، کیچ، آواران، چاغی، خاران، سبی، جھل مگسی، کچھی، قلات، مستونگ، کوہلو، دکی اور بارکھان میں بارش کے ساتھ ژالہ باری ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح موسیٰ خیل، لورالائی، پشین، کوئٹہ، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، چمن اور نوشکی سمیت دیگر علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری ہوئی۔ 
سب سے زیادہ شمال مشرقی بلوچستان اور افغان سرحد سے متصل علاقے متاثر ہوئے۔ منگل کی رات سے بدھ کی صبح تک زیارت میں سب سے زیادہ 18 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
قلعہ عبداللہ میں موسلادھار بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی پیدا ہوئی۔ قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان میں نورک سلیمان خیل، حبیب زئی اور گلستان کاریز کے مقامات پر سیلابی ریلوں کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر رہی اور ان علاقوں میں تین الگ الگ واقعات میں مسافروں سے بھری ایک وین سمیت تین گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔
ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی نے اردو نیوز کو بتایا کہ بتایا کہ وین میں 18 افراد سوار تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے انہیں مقامی افراد اور انتظامیہ کی ٹیموں نے ریسکیو کیا جبکہ دیگر دو گاڑیوں میں سوار چار افراد بھی بچا لیے گئے جو سیلابی ریلے میں پھنس گئے تھے۔
ہرنائی اور گردونواح میں تین دنوں سے موسلادھار بارش جاری ہے، جس سے کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے اور متعدد رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔ 
پولیس کے مطابق ہرنائی کو سبی سے ملانے والی شاہراہ پر ایک گاڑی ندی عبور کرتے ہوئے سیلابی ریلے میں بہہ گئی مگر تمام مسافر محفوظ رہے۔
ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں زراعت کالونی میں آسمانی بجلی گرنے سے 10 سال کی بچی ہلاک ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز کھیتران کے مطابق بالا ناڑی کے علاقے بلوچانی میں دریائے ناڑی  میں شگاف پڑنے کے باعث سیلابی ریلے نے آبادی کا رخ کرلیا جس سے متعدد کچے مکانات اور کھڑی فصلیں تباہ  ہوگئیں۔ موسیٰ خیل اور گردونواح میں بھی نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ محلہ جعفرآباد اور درگئی میں گھروں میں پانی داخل ہونے سے کئی مکانات کو نقصان پہنچا۔
محکمہ موسمیات نے جمعرات کو بلوچستان کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض مقامات پر شدید ژالہ باری کی پیش گوئی کی ہے۔ 
شمال مشرقی بلوچستان کے اضلاع ژوب، موسیٰ خیل، شیرانی، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، نصیرآباد، جھل مگسی، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، مستونگ، قلات، خضدار اور لسبیلہ میں ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے جمعرات سے سنیچر کے دوران شمال مشرقی بلوچستان میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے عوام سے ندی نالوں سے دور رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی ہے۔ کمزور ڈھانچے جیسے بجلی کے کھمبے، بل بورڈز اور سولر پینلز بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

شیئر: