امریکہ ایران کو اگلے چند ہفتوں میں ’شدید نشانہ‘ بنائے گا: ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگلے دو یا تین ہفتوں میں ایران کو امریکی فوجیں ’سختی سے نشانہ‘ لگاتے ہوئے واپس ’پتھر کے زمانے‘ میں پہنچا دیں گی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انہوں نے ایران جنگ میں امریکی کارروائیوں کی کامیابیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب تک واشنگٹن کے تمام مقاصد پورے ہو چکے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو تھوڑے وقت میں مسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
’ہم اگلے دو سے تین ہفتوں میں ان کو انتہائی سخت طریقے سے نشانہ بنانے والے ہیں اور ان کو اسی پتھر کے زمانے میں بھیجنے جا رہے ہیں جہاں سے ان کا تعلق ہے۔‘
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور نہ چھ اپریل کا ذکر کیا جو انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ڈیڈلائن کے طور پر دے رکھی ہے۔
انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر آبی گزرگاہ کو نہ کھولا گیا تو ایران کے توانائی کے بنیادی انفراسٹرکچر پر حملے کیے جائیں گے۔
ٹرمپ کی جانب سے ان رکاوٹوں کو ختم کیے جانے کے حوالے سے کوئی واضح حل پیش نہیں کیا گیا جن کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی صدر نے زمینی فوجی دستے ایران میں بھیجنے جانے کے امکان کا ذکر بھی نہیں کیا جبکہ نیٹو کا تذکرہ بھی نہیں کیا، جس پر وہ سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ مدد نہ کرنے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان سامنے آئے کے بعد تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا اور ایشیائی سٹاک گر گئے۔
بین الاقوامی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت میں چار اعشاریہ نو فیصد کے اضافے کے بعد ایک سو چھ اعشاریہ چھ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ بینچ مارک یو ایس کروڈ کے نرخوں میں چار فیصد اضافہ ہوا اور قیمت ایک سو چار اعشاریہ 15 ڈالر بی بیرل تک پہنچی۔
منگل کو امریکہ میں گیس کی قیمتیں 2022 کے بعد پہلی بار اوسطاً چار ڈالر فی گیلن سے بڑھیں کیونکہ ایران جنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں ایندھن کے ذرائع کے نرخوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی یہ بڑھتی قیمتیں گروسری کے سامان تک بھی پہنچ جائیں گی کیونکہ اس سے نقل و حمل اور پیکیجنگ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ ٹرمپ خلیجی عرب اتحادی ممالک کو مشکل وقت میں چھوڑ رہے ہیں۔
نیویارک کے ایک تھنک ٹینک کی جانب سے جمعرات کو بتایا گیا کہ امریکی صدر کی تقریر سے پتہ چلتا ہے کہ ’وہ آبنائے ہرمز کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور دوسرے ممالک کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
نیویارک کے ادارے صوفان سینٹر کا کہنا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کا پیغام یہ تھا کہ اپنے معاشی اور توانائی کے نظام کو برقرار رکھ سکتا ہے جبکہ علاقائی برآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک کو یا تو امریکہ سے خریداری کرنا ہو گی یا پھر آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر مینیج کرنا ہو گا۔‘
تھنک ٹینک کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر خلیجی عرب اتحادیوں کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا لیکن آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائے بغیر امریکہ کا انخلا ان ممالک کو مشکلات سے دوچار کر دے گا جن کی معیشتوں کا دارومدار توانائی کی برآمدات پر ہے۔
