پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن میں ان دنوں اندرونی سیاست کچھ انگڑائی لیتی دکھائی دے رہی ہے۔ سابق وزیراعلٰی پنجاب حمزہ شہباز ان دنوں اچانک پارٹی معاملات میں دوبارہ متحرک ہو گئے ہیں۔
وہ نہ صرف پنجاب میں پارٹی کے ضلعی صدور سے ملاقاتیں کر رہے ہیں بلکہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں یونین کونسل کی سطح پر بھی پارٹی لیڈروں اور ورکرز سے نہ صرف مل رہے ہیں بلکہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اُن کی ٹیم ان ملاقاتوں کی تشہیر بھی کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں
-
کیا حمزہ شہباز پنجاب میں مریم نواز کے ساتھ کام کر سکیں گے؟Node ID: 838006
خیال رہے کہ حمزہ شہباز اپریل 2022 سے اُسی سال جولائی تک پنجاب کے وزیراعلٰی رہے۔ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد اقتدار کا ہُما ان کے سر پر بیٹھا لیکن وہ زیادہ دیر تک اس اقتدار کو سنبھال نہ سکے۔
ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت نے چوہدری پرویز الٰہی کو صوبہ پنجاب کا وزیراعلٰی بنا دیا، تاہم اس کے بعد وہ عملی طور پر سیاست سے دُور ہو گئے۔
عام انتخابات 2024 کے بعد جب مریم نواز پنجاب کی وزیراعلٰی بنیں تو حمزہ شہباز کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر چلے گئے واپس آںے کے بعد بھی انہوں نے کسی طرح کی کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا۔
تاہم گذشتہ ایک ماہ سے وہ اچانک دوبارہ متحرک ہو گئے ہیں۔ اس تحریک کی وجہ جاننے کے لیے جب ان کے دفتر سے رابطہ کیا گیا تو ان کے ترجمان عمران گورائیہ کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ حمزہ شہباز کہیں غائب تھے یا سیاست سے آؤٹ تھے۔‘
’وہ ایسے ہی ملاقاتیں کر رہے تھے جیسے اب کر رہے ہیں، تاہم ان ملاقاتوں کی تشہیر نہیں کی جا رہی تھی۔ اب ان ملاقاتوں میں وسعت آئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ نچلی سطح پر پارٹی کارکنوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت وفاق اور پنجاب دونوں جگہ مسلم لیگ ن کی حکومت ہے لیکن نِچلی سطح پر کارکنوں میں یہ تاثر اُبھر رہا ہےا کہ جیسے ان کی بات سُنی نہیں جا رہی۔‘

عمران گورائیہ کا مزید کہنا تھا کہ اسی لیے سابق وزیراعلٰی پنجاب حمزہ شہباز نہ صرف پارٹی کارکنوں کی بات سن رہے ہیں بلکہ ان کے کام بھی کروا رہے ہیں۔
حمزہ شہباز کی ان غیر معمولی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ حمزہ شہباز کا متحرک ہونا اچنبھے کی بات نہیں ہے۔‘
’حکومت کا قریباً آدھا وقت گزر چکا ہے اور جب دو اڑھائی سال گزر جاتے ہیں تو پارٹیاں اپنی سیاسی صورتِ حال پر نظرثانی کرتی ہیں۔ میری حال ہی میں حمزہ شہباز سے ملاقات ہوئی تو اس گفتگو میں وہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ پنجاب میں پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے بلدیاتی انتخابات ناگزیر ہیں۔‘
سلمان غنی کے مطابق ’حمزہ شہباز کی خواہش ہے کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوں جبکہ میرا یہ خیال ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت جو کہ مریم نواز چلا رہی ہیں وہ کسی بھی طرح سے بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار نہیں ہے۔‘
مسلم لیگ ن کے اندر شروع ہونے والی اس کشمکش پر سینیئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ’حمزہ شہباز مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر بننا چاہتے ہیں۔ یہ عہدہ تاحال رانا ثنا اللہ کے پاس ہے اور وہ وفاق میں مصروف ہیں۔‘













