آج کل آن لائن رائیڈز بک کرنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ کسی بھی مقام سے اپنی مرضی کی رائیڈ بک کر کے ڈرائیورز کو اپنی دی ہوئی لوکیشن پر بلانا فقط ایک کلک سے ممکن ہوگیا ہے تاہم اب یہ سہولت بھی جرائم کی نذر ہونے لگی ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں رکشہ اور کار ڈرائیورز کے ساتھ ایسے واقعات ہونے لگے ہیں جن کی وجہ سے آن لائن ڈرائیورز کے لیے پریشانی بڑھ سکتی ہے۔
لاہور کے علاقےجوہر ٹاؤن میں گزشتہ دنوں ایک کار ڈرائیور کو خاتون نے نشہ آور چیز کھلا کر بے ہوش کیا اور موبائلز سمیت نقدی بھی چرا لی۔
مزید پڑھیں
لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن پولیس نے ایک نوسرباز خاتون کا نیا طریقہ واردات بے نقاب کرتے ہوئے اسے قانون کی گرفت میں لے لیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمہ مختلف علاقوں میں ڈرائیورز کو نشہ آور چیز دے کر لوٹ مار کرتی تھی اور اس کی پیشہ وارانہ کارروائیوں کا دائرہ لاہور کے ساتھ ساتھ گوجرانوالہ اور دیگر علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔
ایس پی صدر رانا حسین طاہر کے مطابق ’ملزمہ رائیڈ بک کر کے ڈرائیورز کے ساتھ بیٹھ جاتی تھی اور ڈرائیور کو باتوں میں لگا کر انہیں نشہ آور چیز پلاتی/کھلاتی اور بے ہوش ہونے کے بعد ڈرائیورز کے موبائل، والٹ اور دیگر قیمتی اشیاء لے کر فرار ہو جاتی۔‘
تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج مقدمے میں ایک شہری نے بتایا کہ وہ آن لائن ٹیکسی ڈرائیور ہے اور لاہور کے مختلف علاقوں میں گاڑی چلاتا ہے۔

مقدمے میں مدعی نے موقف اپناتے ہوئے کہا ہے ’29 مارچ کی شب لاہور کے ایک نجی ہسپتال کے قریب ایک رائیڈ ملی۔ رائیڈ بک کرنے والی خاتون نے کھوکھر چوک جانا تھا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی خاتون نے مجھے جوس پینے کے لیے دیا اور کچھ فاصلے کے بعد واش روم جانے کا کہا، جب میں نے قریبی پیٹرول پمپ پر گاڑی روکی تو میں بے ہوش ہوگیا اور جب ہوش آیا تو گاڑی سے دو موبائل فونز اور نقدی غائب تھی۔‘
اردو نیوز کے پاس دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون گاڑی رکتے ہی پیٹرول پمپ پر واش روم کے اندر چلی جاتی ہے جبکہ گاڑی اپنی جگہ پر ہی موجود ہے۔
ایس پی صدر نے کہا کہ ملزمہ کی سرگرمیاں دیگر تھانوں کی حدود میں بھی سامنے آئی ہیں جس میں مزنگ، ڈیفنس اے، اور گوجرانوالہ شامل ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق پولیس نے مقدمہ درج ہوتے ہی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمہ کو گرفتار کر لیا ہے اور اس وقت خاتون تفتیشی حکام کی حراست میں ہے۔
گزشتہ شب بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تاہم اب تک تفصیلات واضح نہیں ہیں۔

لاہور گارڈن ٹاؤن کے رہائشی محمد لطیف پنجاب یونیورسٹی میں مالی ہیں تاہم وہ پارٹ ٹائم رکشہ بھی چلاتے ہیں۔
محمد لطیف کی اہل خانہ نے اردو نیوز کو بتایا گزشتہ روز کسی سواری نے انہیں نشہ آور چیز کھلائی تھی جس کے بعد وہ بے ہوش ہو کر رکشے میں موجود تھے۔ کسی راہگیر نے انہیں بے ہوشی کی حالت میں دیکھ کر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی اور ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا۔
اہل خانہ کے مطابق ہسپتال انتظامیہ نے محمد لطیف کو علاج کے بعد ڈسچارج کر دیا لیکن وہ رات کو 10 بجے کے بعد ہسپتال سے نکلے تاہم گھر نہیں آئے۔
گھر والوں کے مطابق محمد لطیف کئی گھنٹوں تک لاپتہ تھے۔ اہل خانہ نے شہر بھر میں ڈھونڈنے کی کوشش کی جس کے بعد وہ خود گھر آگئے تاہم وہ نشہ آور چیز کھانے کے بعد کے واقعات سے لاعلم ہیں اور اس وقت نیم بے ہوشی میں ہیں۔
ایس پی صدر رانا حسین طاہر نے شہریوں کو یقین دلایا کہ ’ان کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔‘












