ریڈ سی میوزیم میں اٹھارویں صدی کا لنگر، جدہ کی سمندری تاریخ کا گواہ
لنگر کی لمبائی 2.7 میٹر جبکہ وزن 350 سے 400 کلوگرام کے درمیان ہے (فوٹو: ایس پی اے)
جدہ تاریخیہ میں قائم ’ریڈ سِی میوزیم‘ میں آج کل جہازوں کو باندھنے کے لیے استعمال کیا جانے والا لوہے کا ایک لنگر یہاں آنے والوں کے لیے محورِ نگاہ بنا ہوا ہے۔
یہ تاریخی لنگر میوزیم کے مہمانوں کے لیے اُن مناظر کی ایک جھلک ہے کہ گزشتہ دو صدیوں کے دوران بحیرۂ احمر میں کس طرح کی سمندری سرگرمیاں ہوا کرتی تھیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق نمائش کے لیے رکھا گیا لنگر اٹھارویں صدی کے وسط یا آخری حصے سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس لنگر کو جدہ میں بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے کے قریب دریافت کیا گیا تھا۔
آج یہ لنگر ریڈ سِی میوزیم میں رکھے گئے نوادرات میں شاید سب سے نمایاں ہے۔ اِس کی لمبائی 2.7 میٹر جبکہ وزن 350 سے 400 کلوگرام کے درمیان ہے۔
ماہرین نے اِسے تھری ڈی سکیننگ اور اشیا کی بحالی کے ڈیجیٹل طریقوں سے احتیاط کے ساتھ جوڑا ہے اور اب یہ اپنی اصل شکل میں میوزیم میں موجود ہے۔
لیبارٹری کے تجزیات سے اِس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہ لنگر لوہے کا بنا ہوا ہے۔ لمبے دستے، سیدھے بازو اور بیلچے کی شکل کے قلاب والے اِس لنگر کا ڈیزائن، اٹھارویں صدی کے برطانوی بحری جہازوں کے لیے استعمال ہونے والے لنگروں سے کافی مشابہہ ہے۔اُس زمانے میں پرتگال میں بھی اِسی ڈیزائن کے لنگروں کا رواج تھا۔
یہ مشابہتیں ظاہر کرتی ہیں کہ اُس زمانے میں یورپی بحری سرگرمیاں بحیرۂ احمر تک پھیلی ہوئی تھیں۔

تکنیکی خصوصیات کے علاوہ یہ لنگر، تجارتی اور ثقافتی راہداری کے طور پر بحیرۂ احمر کے اہم کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
جدہ کی بندرگاہ کئی صدیوں تک عالمی تجارتی راستوں کے لیے ایک اہم مرکز کا کردار اور ثقافتی تبادلے میں سہولتیں فراہم کرتی رہی ہے۔
ریڈ سِی میوزیم یہاں آنے والوں کو نادر اشیا کے ذریعے ایک ثقافتی تجربے سے روشناس کراتا ہے اور ایک پلیٹ فارم کے طور پر مکالمے اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دیتا ہے۔

یہ مملکت کے اِس عزم کا بھی ایک اظہار ہے کہ ’سعودی وژن 2030‘ کے تحت ثقافتی اور قدرتی ورثے کو محفوظ بنایا جائے گا۔
یہ انیشیٹیو جدہ تاریخیہ کو حیاتِ نو دینے اور اِسے ایک عالمی ثقافتی منزل میں تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے جو تاریخ کے قیمتی ورثے اور فن کو باہم جوڑ دیتا ہے اور سیاحوں کے لیے ماضی اور مستقبل کے درمیان ایسے پُل کا کام دیتا ہے جس سے اُن کا تجربہ دو چند ہو جاتا ہے۔