تقسیمِ پنجاب پر سینٹ کمیٹی کی سماعت

شرکاء کا متفقہ موقف تھا کہ مجوزہ صوبے کا نام جنوبی پنجاب کے بجائے سرائیکستان ہونا چاہیے (فوٹو: اردو نیوز)
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے کراچی میں ایک منفرد بیٹھک کا اہتمام کیا جس میں پنجاب کو تقسیم کر کے نیا صوبہ بنانے کے حوالے سے مجوزہ آئینی ترمیم پر عوامی رائے طلب کی گئی۔
اس موقع پر شرکا کا متفقہ موقف تھا کہ نئے صوبے کا نام جنوبی پنجاب کے بجائے سرائیکستان ہونا چاہیے۔
شہر قائد کے نجی ہوٹل میں 'سینٹ قائمہ کمیٹی کی عوامی سماعت' کے عنوان سے منعقد اس تقریب میں وکلا، سماجی و سیاسی کارکنان، صحافی اور گھریلو خواتین سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہر مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جاوید عباسی کے علاؤہ سینیٹر ولید اقبال اور سینیٹر مصدق ملک بھی سماعت میں موجود تھے۔

 

 عوامی سماعت میں آئین کی مندرجہ ذیل تین شقوں میں ترامیم کے لئے قانونی مسودہ کی تیاری کے لیئے عوامی رائے طلب کی گئی۔
پہلے مجوزہ  بل کے لیے آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 1، 51، 59، 106، 175، 198 اور 218 کے تحت ساؤتھ پنجاب صوبہ بنانے کے حوالے سے بحث کی گئی اور پاکستان میں مزید نئے صوبوں کی ضرورت پر غور کیا گیا۔
دوسرے مجوزہ بل کے لیے آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کے تحت صوبہ بلوچستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافے کے حوالے سے بحث کی گی اور اس سلسلے میں صوبے کی آبادی اور خطے کی جغرافیائی عوامل کو بھی زیر بحث لایا گیا۔
 جبکہ تیسرے  مجوزہ بل میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 11 کے تحت چائلڈ لیبر کی عمر کی حد 14 سال سے بڑھا کی 16 سال کرنے کے معاملے پر عوامی رائے لی گئی۔
عوامی سماعت کے ایجنڈے پر آئٹم تو تین تھے مگر علیحدہ صوبہ بنانے کا معاملہ تمام کاروائی پر حاوی رہا اور مقررین نے اس نقطے پر پر جوش طریقے سے اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کی ۔
سماعت کے دوران ایک بات جو بہت واضح طریقے سے سامنے آئی وہ یہ کے ہر شخص نے شدید الفاظ میں نئے صوبے کے مجوزہ نام ’جنوبی پنجاب‘ کی مخالفت کی۔ اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملنے پر بہاولپور، ملتان اور دیگر علاقوں سے خاص طور پر اس سماعت کے لیے کراچی آئے درجنوں افراد نے پر جوش خطابت اور دلائل کے ذریعے سامعین کو باور کروایا کہ وہ نئے صوبے کا نام جنوبی پنجاب رکھنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہاں موجود تقریباً تمام افراد ہی اس بات پر متفق تھے کے نئے صوبے کا نام ’سرائیکستان‘ ہونا چائیے۔

نذیر لغاری کا کہنا تھا کہ علاقے میں بسنے والے تمام لوگ  مجوزہ صوبے کا الگ نام لے کر مطالبہ کر رہے ہیں (فوٹو: اردو نیوز)

سرائیکی نوجوانان کی تنظیم کے نمائندہ عاقب جاوید جھوکر اور سرائیکی ایکشن کمیٹی کے سربراہ جنید بھٹہ نے موقف اپنایا کے نئے صوبے کا نام جنوبی پنجاب رکھنا انہیں گالی دینے کے مترادف ہے۔ بھٹہ کا کہنا تھا کہ سرائیکی سرزمین ان کی ماں جیسی ہے اور اس کا نام بگاڑنا ایسا ہے کے کسی کی ماں کی بے حرمتی کی جائے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر اینڈ ریسرچ (پائلر) کے سربراہ کرامت علی کا کہنا تھا کہ نئے صوبے کو اس کی علیحدہ پہچان دینا وہاں کے لوگوں کا حق ہے۔ کرامت علی نے بتایا کہ ان کا تعلق ملتان سے ہے، وہاں کے لوگ ہمیشہ سے لاہور اور اسلام آباد کا ذکر ایسے کرتے ہیں جیسے کوئی الگ صوبہ یا سرزمین ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بود و باش، رہن سہن، بول چال اور رسم و رواج میں یہ خطہ دیگر پنجاب سے یکسر مختلف ہے اور منفرد پہچان ملنا اس کا حق ہے۔
معروف صحافی اور تجزیہ نگار نذیر لغاری کا کہنا تھا کہ جب اس علاقے میں بسنے والے تمام لوگ سرائیکی صوبے کا الگ نام لے کر مطالبہ کر رہے ہیں تو پھر حکومت کا اسے کوئی اور نام دینا سمجھ نہیں آتا۔ ماضی پر نگاہ ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں شمال مغربی سرحدی صوبے کو خیبر پختونخوا بنانے میں 70 سال لگ گئے، کیا ہم پھر ایسی غلطی کر کے جغرافیائی چھیڑ چھاڑ کرنا چاہتے ہیں؟
اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن قومی اسمبلی شیخ صلاح الدین نے قائمہ کمیٹی ممبران کے سامنے کراچی میں بسنے والے مہاجروں کے لیے بھی علیحدہ صوبہ بنانے کا مطالبہ رکھا۔ متحدہ رہنما کا کہنا تھا کہ آئین میں تبدیلی اور ترمیم کا فائدہ مساوی بنیادوں پر پہنچنا چاہیے، اگر لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے پر تحفظات ہیں تو آبادی اور انتظامی معاملات کو دیکھتے ہوئے تقسیم کردیں۔ ’ہمیں تو نام سے بھی غرض نہیں، چاہے تو آپ خلفائے راشدین کے نام پر نئے صوبے کے نام رکھ دیں تا کہ سب متفق ہوں۔‘

شرکا نے بلوچستان کی قومی اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی بڑھانے کے حوالے سے قانون سازی کی تائید کی (فوٹو: اردو نیوز)

’سرائیکستان‘پر بحث کے دوران یہ نقطہ بھی زیر غور آیا کے مجوزہ نیا صوبہ کتنے اور کون کون سے اضلاع پر مشتمل ہونا چاہیے۔ بیشتر افراد نے کہا کے نیا صوبہ 23 اضلاع پر مشتمل ہونا چاہیے، مگر کچھ 18 پر بھی مطمئن رہے، تاہم سب نے ملتان اور بہاولپور کو الگ الگ صوبہ بنانے کے خیال کی مخالفت کی۔
بہاولپور نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ صلاح الدین عباسی نے کہا کہ نیا صوبہ بنانے سے پہلے آئین کے آرٹیکل 239 کی شق 4 کو ختم کرنا ہوگا جو نئے صوبے سے متعلق قانون سازی کے لیئے دو تہائی اکثریت لازمی قرار دیتی ہے۔
اس موقع پر سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین جاوید عباسی نے شرکاء سے کہا کہ یہاں تو تمام افراد یکجہتی کا ثبوت دے رہے ہیں مگر یہی اپنے سیاسی رہنماؤں کو بھی کہیں تا کہ یہ مدعا جب پارلیمان کے سامنے آئے تو اس کو منظور کیا جائے۔
اس کے جواب میں ملتان سے آئے شہری عمران شہزاد نے کہا کہ اگر ان کے علاقے کے سیاسی نمائندے اتنے عوام دوست ہوتے تو یہ تمام افراد اپنی بات کہنے اتنی دور کراچی نہ آئے ہوتے۔
تمام شرکا نے بلوچستان کی قومی اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی بڑھانے کے حوالے سے قانون سازی کی تائید کی اور کہا کہ سیٹوں میں اضافے کی مانگ کی اصل وجہ وسائل ہوتے ہیں، اگر تمام علاقوں کو ان کی ضرورت کے مطابق وسائل ملیں تو ایسی سنگین صورتحال پیدا ہی کہ ہو۔
چائلڈ لیبر کے حوالے سے بھی کچھ لوگوں نے اپنی سفارشات قائمہ کمیٹی کے سامنے رکھیں۔ پائلر کے کرامت علی نے کہا کے پاکستان کے حالات تمام دنیا سے مختلف ہیں، لہذا 18 سال کی حد مقرر کرنا تو غیر حقیقی مطالبہ ہوگا کیوں کہ غربت کی وجہ سے بچوں کو محنت مزدوری کرنی پڑ جاتی ہے، ایسے میں چائلڈ لیبر کم از کم حد 16 سال مقرر کرنا احسن اقدام ہوگا۔

چائلڈ لیبر کے حوالے سے بھی کچھ لوگوں نے اپنی سفارشات قائمہ کمیٹی کے سامنے رکھیں (فوٹو: اردو نیوز)

شرکاء کا کہنا تھا کہ کم عمر بچوں کا مزدوری کرنا اور ان کا استحصال کرنا دو الگ چیزیں ہیں جن کے لیے قانون سازی میں گنجائش ہونی چاہیے۔ امریکہ کی مثال دیتے ہوئے شرکاء نے بتایا کہ وہاں کم عمر بچے والدین کا کھیتی باڑی میں ہاتھ بٹاتے ہیں، پاکستان بھی غریب ملک ہے یہاں گھر چلانے کے لیے بچوں کو کام کرنا پڑ جاتا ہے، اس کی گنجائش ہونی چائیے۔
چار گھنٹے جاری رہنے والی عوامی سماعت کے اختتام پر قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جاوید عباسی نے شرکاء سے خطاب بھی کیا اور بتایا کہ ان کی سفارشات نوٹ کر لی گئی ہیں جو کہ عوامی امنگوں کے ہم آہنگ قانون سازی کرنے میں کارآمد ثابت ہوں گی۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: