12ہزار ریڈ نطاق والے ادارے گرین نطاق میں منتقل

گرین نطاق میں رہنے کے لیے مزید 6ہزار سعودیوں کو ملازم رکھنا ہوگا۔ فائل فوٹو
سعودی وزارت محنت و سماجی بہبود نے انکشاف کیا ہے کہ 6ہزار سعودی شہریوں کو ملازمت دینے کی بدولت 12ہزار ریڈ نطاق والے ادارے گرین نطاق میں منتقل ہوگئے۔
عاجل ویب سائٹ کے مطابق معاون سیکریٹری محنت ولید الکلش نے بتایا کہ گرین نطاق میں تبدیل ہونے والے اداروں کو اپنی پوزیشن پکی کرنے کے لیے مزید 6ہزار سعودیوں کو ملازم رکھنا ہوگا۔ ان اداروں کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ مملکت میں اداروں کی کل تعداد 1.563 ملین ہے۔

وزارت محنت نے نجی اداروں سے تعاون بڑھانے کے لیے ’الصفوة‘ پروگرام متعارف کرایا ہے۔ فائل فوٹو

الکلش نے واضح کیا ہے کہ ریڈ نطاق سے بچنے کے لیے ان اداروں کو مزید 6ہزار سعودیوں کی تقرری ناگزیر ہے اس کے بغیر بات نہیں بنے گی۔ اس قسم کے ادارے تمام شعبوں میں ہیں۔ کوئی شعبہ بھی سعودیوں کو مقررہ تناسب کے ساتھ ملازم رکھنے کی پابندی سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
یاد رہے کہ وزیر محنت و سماجی بہبود نے یلو نطاق والے اداروں کو ختم کرکے ریڈ نطاق میں داخل کردیاتھا۔

 وزارت ان اداروں کو سہولتیں فراہم کرتی ہے جو سعودائزیشن کی مطلوبہ شرح پوری کرلیتے ہیں۔ فائل فوٹو

وزارت محنت کے ترجمان خالد ابا الخیل نے توجہ دلائی تھی کہ اگر ریڈ نطاق والے ادارے ہنگامی بنیادوں پر اپنے یہاں سعودی ملازم تعینات کرلیں تو ایسی صورت میں وہ ریڈ نطاق سے نکل کر گرین نطاق میں جاسکتے ہیں۔
 مطلوبہ تناسب میں سعودیوں کو ملازم نہ رکھنے کی وجہ سے نجی ادارے ریڈ اور یلو نطاق میں چلے جاتے ہیں۔ ایسے اداروں کو وزارت محنت تمام سہولتیں فراہم نہیں کرتی۔ وزارت صرف ان اداروں کو سہولتیں فراہم کرتی ہے جو گرین
نطاق کے لیے مطلوب سعودائزیشن کی شرح پوری کرلیتے ہیں یا مقررہ شرح سے زیادہ سعودی ملازم رکھتے ہیں۔
وزارت محنت نے نجی اداروں کے ساتھ تعاون کا رشتہ بڑھانے کے لیے ’الصفوة‘ پروگرام متعارف کرایا ہے۔ اس کے تحت وزارت محنت اور نجی اداروں کے درمیان اسٹراٹیجک شراکت کو فروغ دیا جائے گا۔ ہر ادارے میںوزارت کے ساتھ معاملات دیکھنے کے لیے ایک ڈائریکٹر کی تقرری ہوگی۔ یہ الصفوة زمرے میں شامل اداروں کو مطلوبہ خدمات ریکارڈ وقت میں فراہم کرائے گا اور ان کی درخواستیں پہلی فرصت میں نمٹائے گا۔
 
خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
                      
 

شیئر: