Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جبری گمشدگی نہیں ہوگی، یکم فروری کے بعد لاپتا افراد کا مسئلہ ختم ہو جائے گا: سرفراز بگٹی

وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ’یکم فروری کے بعد ریاست یا حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جبری گمشدگی نہیں ہوگی اور اس حوالے سے واضح قانونی فریم ورک موجود ہوگا۔‘
سرفراز بگٹی نے ان خیالات کا اظہار منگل کو وزیراعلٰی سیکریٹیریٹ کوئٹہ میں منعقد ہونے والے صوبائی کابینہ کے 22 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ 
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صوبے میں لاپتے افراد کے مسئلے کو ریاستِ پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے حالانکہ خیبر پختونخوا میں اس نوعیت کے کیسز بلوچستان سے کہیں زیادہ ہیں۔‘
وزیراعلٰی نے کہا کہ ’صوبے میں بعض عناصر اور جماعتیں اس حساس معاملے پر محض سیاست کرتی رہیں مگر مسئلے کے مستقل اور قانونی حل کے لیے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔‘
سرفراز بگٹی کے مطابق ’صوبائی حکومت، کابینہ، ارکانِ اسمبلی اور چیف سیکریٹری بلوچستان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ لاپتا افراد کا مسئلہ مستقل طور پر حل کرنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر قانون بلوچستان اسمبلی سے منظور کروایا گیا۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’یکم فروری کے بعد ریاست یا حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جبری گمشدگی نہیں ہوگی اور اس حوالے سے واضح قانونی فریم ورک موجود ہوگا۔‘
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے جس سے ریاستِ پاکستان پر لگنے والے جبری گمشدگی کے الزامات اور اس بنیاد پر ہونے والے منفی پروپیگنڈے کا خاتمہ ہوگا۔‘
’بلوچستان میں سکیورٹی فورسز گرے زونز میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران تفتیش اور پُوچھ گچھ کرتی ہیں اور مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا جاتا ہے، تاہم یکم فروری کے بعد مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔‘

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم سے تفتیش اِن ہی مراکز میں کریں گے‘ (فوٹو: ڈی جی پی آر، کوئٹہ)

ان کے مطابق ’اس ضمن میں ایک لیگل فریم ورک موجود ہوگا کہ اگر کوئی فرد دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں غائب ہوتا ہے یا خود ساختہ طور پر روپوش ہوتا ہے تو اُس کی ذمہ داری ریاست پر عائد نہیں کی جا سکتی۔‘
’گمشدگی کے دعوؤں کی جانچ کے لیے عدالتیں اور متعلقہ کمیشن موجود ہیں مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں خود ساختہ گمشدگی کا تاثر قائم کر کے فوری طور پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے۔‘
وزیراعلٰی نے کہا کہ ’یہ رُجحان ختم کرنے کے لیے بلوچستان پریوینشن آف ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائزیشن ایکٹ (ڈبل ون ٹیٹرا ای) منظور کیا گیا ہے اور صوبائی کابینہ نے اِس کے رولز 2025 کی منظوری بھی دے دی ہے۔‘ 
انہوں نے بتایا کہ ’اس قانون کے تحت قائم کردہ مخصوص مراکز میں مشتبہ افراد سے مجاز پولیس افسران کی نگرانی میں تفتیش ہوگی، اور انتہا پسندی، گمراہ کن بیانیے اور ریاست مخالف سوچ ختم کرنے کے لیے اُن کی کونسلنگ بھی کی جائے گی۔‘
’زیرِتفتیش افراد کے اہلِ خانہ کو 24 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے گی اور اُن سے ملاقات کی اجازت بھی ہوگی، ایسے افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور کسی فرد کو اِن مراکز سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔‘
وزیراعلٰی بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ’اگر قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے نے کسی ملزم سے تفتیش کرنا ہوئی تو وہ اِن ہی مراکز میں کرے گا۔‘ 

شیئر: