Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سائنسی اور ثقافتی لینڈ سکیپ‘، العلا میں فلکیات کا براہ راست تجربہ

منارہ العلا کی ٹیم نے، سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے کنگ عبدالعزیز سِٹی کے ماہرین کے ساتھ مل کر پیر کو ایک انٹرایکٹیو فلکیاتی تجربہ کیا ہے۔
یہ ایونٹ منارہ العلا کے تعلیمی پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد فلکیاتی آگاہی کو  فروغ دینا اور سائنسی علم کو مشاہدے کے لائیو سیشنز کے ذریعے پھیلانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ماہرینِ فلکیات کی نگرانی میں یہ تجربہ، جدید فلکیاتی آلات اور طریقوں کے ذریعے کیا گیا۔
اس تجربے نے دیکھنے والوں کو تعلیمی اور اپنی طرف متوجہ کرنے والا ایک منظر پیش کیا جو علاقے کے سائنسی اور ثقافتی لینڈ سکیپ کو مزید بہتر بنائے گا۔
گزشتہ برس دسمبر میں العلا کے رائل کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ شرعان اور وادیِ نخلہ کے ریزروز کو ڈارک سکائی انٹرنیشنل کی طرف سے باقاعدہ منظوری مل گئی ہے۔

ان  مقامات کو اب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ڈارک سکائی مقامات میں شمار کیا جائے گا۔ اس طرح ان دونوں جگہوں کو بھی اُن 250 مقامات میں شامل کر لیا گیا ہے جنھیں دنیا بھر میں محفوظ سائٹس کا درجہ حاصل ہے۔
ڈارک سکائی کی طرف سے منظوری ملنے کے بعد العلا، سنہ 2024 کے ان فخریہ کارناموں سےآگے بڑھ رہا ہے جب منارہ العلا اور الغرامیل نیچر ریزرو، مملکت اور خلیج کے علاقوں میں پہلی ایسی سائٹس بن گئی تھیں جنھیں ڈارک سکائی پارک کی حیثیت دے دی گئی تھی۔

تاہم اب یہ نئی منظوری، نائٹ سکائی کے تحفظ کے طور پر العلا کی عالمی سیاحتی پوزیشن کو مزید تقویت دے گی اور فلکیاتی سیاحت میں اضافے کا باعث بنے گی۔
ڈارک سکائی کو تحفظ دینا، کمیشن کے ان مقاصد سے ہم آہنگ ہے جن کے تحت علاقے کے ثقافتی اور قدرتی ورثے کو نہ صرف بچانا ہے بلکہ دھوم دھام سے اس کی خوشی بھی منانی ہے۔ کمیشن کے مقاصد میں علاقے میں ایک پائیدار ماحول میں جنگلی حیات کا تحفظ اور ستارہ بینی کے تجربات کو بڑھانا شامل ہے۔

 

شیئر: