دعا منگی واپس گھر پہنچ گئیں

’دعا کی عمر 20 سال ہے اور وہ کراچی کی ایک مقامی جامعہ میں قانون کی طالبہ ہیں
پولیس حکام کے مطابق گذشتہ ماہ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا ہونے والی لڑکی دعا منگی واپس گھر پہنچ گئیں ہیں تاہم اس بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔
کراچی پولیس کے ترجمان قمر زیب تقی نے اردو نیوز کے نامہ نگار توصیف رضی ملک کو بتایا کہ دعا منگی جمعے کی شب کو واپس گھر بخیریت پہنچ گئیں تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتا سکتے ہیں۔

 

30 نومبر کی شب ڈیفنس میں واقع ایک ریستوران سے کچھ کار سواروں نے دعا منگی  کواغوا کیا تھا جبکہ ان کے دوست حارث کو مزاحمت کرنے پر گولی کا بھی نشانہ بنایا جس کے بعد وہ اب تک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف آرا پڑھنے میں آرہی ہیں جہاں لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کیس کو ابھی بند نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ دعا کو اس مصیبت میں ڈالنے والے اب تک نہیں پکڑے گئے ہیں۔
دبیر نامی صارف نے لکھا ہے کہ انکو لگتا ہے کہ دعا کے اغواکار کسی بالی وڈ کی فلم سے زیادہ خطرناک تھے جو ہماری پولیس انہیں پکڑ نا پائی۔
سماجی کارکن جبران ناصر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’ دعا منگی گھر پہنچ گئی ہیں۔ مگر اغواکار کو ابھی نہیں پکڑا گیا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ میں ڈی ایچ اے میں اغوا کی دو وارداتیں ہوئیں لیکن مجرمان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اغوا کاروں کو جلد گرفتار کیا جائے ورنہ کل کو ہمارا کوئی عزیز بھی اس کا نشانہ بن سکتا ہے۔‘
ٹوئٹر صارف صدف گورائیہ کا کہنا ہے کہ ’اچھا ہوا کہ آخر کار دعا منگی اپنے گھر واپس آگئیں۔ وہ بالکل ٹھیک ہیں، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟ وہ چار افراد کون تھے اور ان کا مقصد کیا تھا؟ بہت سے ایسے سوال ہیں جن کے جوابات ملنا ضروری ہے۔‘
یمنا زیدی نے لکھا ہے کہ ’اللہ کا شکر ہے کہ دعا گھر پہنچ گئی ہیں۔ یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے کہ ان کی فیملی نے ان کی رہائی کے لئے تاوان لیا ہے۔‘
خدیجہ صدیقی نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’ دعا منگی بحفاظت گھر واپس پہنچ گئی ہیں۔ ان کے خاندان نے میڈیا کے ساتھ بات کرنے سے انکار کیا ہے اور میڈیا کو ان کی پرائیویسی کا خیال کرنا چاہیے۔ تاہم اغوا کاروں کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور یہ سب سے زیادہ پرہشان کن بات ہے۔‘
دو دن پہلے جمعرات کو دعا منگی کے اہلِ خانہ نے تاوان کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی تردید کی تھی۔ 
اس وقت دعا کے چچا زاد بھائی راہول حسنین نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بجائے اس کے کہ لوگ ہم سے ہمدردی کرتے، وہ کہہ رہے تھے کہ چونکہ دعا ایک فیمنسٹ ہے، اس لیے اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا تھا۔‘

30 نومبر کی شب ڈیفنس میں واقع ایک ریستوران سے کچھ کار سواروں نے دعا منگی  کواغوا کیا تھا. فوٹو: ٹوئٹر

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس معاشرے میں مظلوم کو ہی مجرم بنا کر پیش کردیا جاتا ہے جس کا اندازہ ہمیں اس حادثے کے بعد ہوا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’دعا کی عمر 20 سال ہے اور وہ کراچی کی ایک مقامی جامعہ میں قانون کی طالبہ ہیں۔‘

شیئر: