جعلی اسناد پر ملازمت مہنگی پڑ گئی

عدالت نے ضمانت کو وصول کی گئی تنخواہ جمع کرانے سے مشروط کر دیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا
کویت کی یونیورسٹی میں ایک خاتون جعلی اسناد پر چار برس اسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کا م کرتی رہی جنہیں اب قانون نافذ کرنے والے ادارے نے تحقیقات کے بعد گرفتار کر لیا ہے۔
کویت کے اخبار ’القبس‘ کے مطابق کویتی خاتون ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی جعلی اسناد کی بنیاد پر کویت یونیورسٹی میں اسٹنٹ پروفیسر تعینات ہو گئی تھی۔ 
سکیورٹی ادارے کو جعل ساز خاتون کے بارے میں اطلاع ملی تو ڈگریوں کی چھان بین شروع کر دی۔

جعل ساز خاتون کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ فوٹو :سوشل میڈیا

اخبار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جعل ساز خاتون کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ عدالت نے خاتون کی ضمانت کی درخواست یہ کہتے ہوئے رد کر دی کہ جب تک ملزمہ یونیورسٹی سے حاصل کی گئی تمام تنخواہ جو 3 لاکھ 86 ہزار ڈالر کے قریب ہے حکومتی خزانے میں نہیں جمع کراتی ضمانت منظور نہیں کی جاسکتی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ رقم حکومتی خزانے میں جمع کرانے کے بعد ضمانت پر ملزمہ کو رہا کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا۔
اخبار کے مطابق ملزمہ نے اپنے ابتدائی بیان میں اس امر کا اقرار کیا تھا کہ اس نے اپنی مصری دوست کو بی اے، ایم اے اورڈاکٹریٹ کی جعلی اسناد کے بدلے خطیر رقم بھی ادا کی تھی۔ 
 

شیئر: