بنگلہ دیش نے کیا کھویا کیا پایا

آج بنگلہ دیش 48 برس کا ہو چکا، اِن اڑتالیس برسوں میں بنگلہ دیش نے تین کام ایسے کیے جو شاید بنگالی بھائی ہمارے ساتھ رہ کر نہ کر پاتے۔
آج سے 48 سال پہلے ہمارے ملک کے دو حصے ہوا کرتے تھے، مشرقی اور مغربی پاکستان، دونوں وفاق پاکستان میں شامل تھے، دونوں جگہ ایک ہی سکہ چلتا تھا، ایک ہی فوج تھی، ایک ہی قانون تھا، دونوں جگہ مسلمان رہتے تھے اور مسلمان قومیت کی بنیاد پرہی اکٹھے تھے۔
پھر یوں ہوا کہ پورے ملک میں پہلی مرتبہ عام انتخابات کروائے گئے جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کی جماعت عوامی لیگ کو اکثریت حاصل ہو گئی، یہ بات ہم مغربی پاکستانیوں کو کچھ پسند نہیں آئی، لہذا جب اِس جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دینے کا وقت آیا توہمارے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹرعزت مآب جناب یحیٰ خان مد ظلہ نے مشرقی پاکستان میں اپنے ٹائیگر نیازی کو بھیجا تاکہ وہ شر پسندوں کی سرکوبی کر سکیں۔
ٹائیگر صاحب نے ڈھاکہ میں اچھا وقت گزارا مگر ڈھاکہ میں یہ خوشگوار پڑاؤ عارضی ثابت ہوا اور بالآخر 16 دسمبر 1971 کو ہمارے ٹائیگر نیازی نے پوری آن بان کے ساتھ ہتھیار ڈال دیے۔
اندرا گاندھی نے بیان دیا کہ آج ہم نے نظریہ پاکستان کوبحیرہ عرب میں پھینک دیا، بنگالیوں نے عملاً اِس بات کی تائید یوں کی کہ علیحدہ وطن بنا لیا جس کا نام بنگلہ دیش رکھا اور یہ ثابت کر دیا کہ مذہب مشترک ہونے سے قوم نہیں بنتی۔
یہ بات مگر نریندر مودی کی بی جے پی نے 11 دسمبر 2019 کو بھارتی شہریت کے قانون میں تبدیلی کرکے غلط ثابت کر دی جس کی تفصیل پھر کبھی۔
آج بنگلہ دیش 48 برس کا ہو چکا، اِن 48 برسوں میں بنگلہ دیش نے تین کام ایسے کیے جو شاید بنگالی بھائی ہمارے ساتھ رہ کر نہ کر پاتے۔
ایک کام انہوں نے یہ کیا کہ اپنی آبادی پر قابو پا لیا، 1971 میں مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان کے مقابلے میں 50 لاکھ زیادہ تھی اور آج الحمد اللہ ہمارے والے پاکستان کی آبادی 20 کروڑ جبکہ بنگلہ دیش کی صرف ساڑھے 16 کروڑ کے قریب ہے اور امید ہے کہ 2050 تک یہ فرق ساڑھے تین کروڑ سے بڑھ کر چھ کروڑ ہو جائے گا۔
آبادی پر قابو پانے کے لیے بنگلہ دیش نے نہ صرف ملک گیر مہم چلائی اور گھر گھر مانع حمل کی اشیا فراہم کیں۔ وہاں کے مذہبی عالموں نے بھی اِس ضمن میں مدد کی اور یوں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔

بنگلہ دیش نے آبادی پر قابو پانے میں پاکستان کے مقابلے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

دوسرا کام وہاں یہ ہوا کہ معاشی ترقی میں عورتیں آگے آئیں اور انہوں نے بنگلہ دیش کی معیشت کو مضبوط کیا، آئی ایل او کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بنگلہ دیش میں عورتوں کا لیبر فورس میں حصہ 36 فیصد جبکہ پاکستان میں یہی شرح صرف 24 فیصد کے قریب ہے۔
تیسرا کام جو بنگلہ دیش نے کیا وہ تھا اپنی آمدن کو کسی ’غیر پیداواری‘ سرگرمی کے بجائے سوچ سمجھ کر عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کرنا۔ ان اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بنگلہ دیش عالمی انسانی ترقی کے اشاریے میں 135 ویں نمبر ہر ہے اور ہمارا نمبر 152 ہے، ویسے ہماری فی کس آمدن بنگلہ دیش سے قدرے بہتر ہے مگر جب انسانی ترقی کا اشاریہ بہتراور فی کس آمدن کم ہو تو اُس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس ملک میں دولت کی تقسیم نسبتاً بہتر ہے۔
بنگلہ دیش میں ٹیکسٹائل کی صنعت بھی بہت پھل پھول رہی ہے اور وہاں کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے مگر اِس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بنگلہ دیش میں سب اچھا ہے۔ ٹیکسٹائل کی صنعت وہاں ایک مافیا کی طرح کام کرتی ہے, اپنی مرضی کی پالیسیاں بنواتی ہے، کابینہ میں وزیر لگواتی ہے اور لیبر قوانین میں ایسی رعایتیں لیتی ہے جس سے غریب کارکن کا استحصال ہوتا ہے۔ 

بنگلہ دیش کی معاشی ترقی میں عورتیں آگے آئیں اور انہوں نے اس کی معیشت کو مضبوط کیا۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت 1947 تک ایک ملک تھے، سنہ 47 میں دو ملک بنے اور 71 میں تین ملک بن گئے۔ ان ممالک کے لوگ ایک دوسرے کی بولی سمجھتے ہیں، رسم و رواج جانتے ہیں، تاریخ اور مذہب سے واقف ہیں، ایسا کیا ہوا کہ ان تینوں ممالک میں ہم  پیچھے رہ گئے اور باقی دو ملک جو بالکل اسی قسم کے مسائل کا شکار تھے، ہم سے آگے نکل گئے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں راکٹ سائنس کی کوئی کتاب پڑھنے کی ضرورت نہیں فقط تاریخ کی ایک آدھ مستند کتاب کھنگالنے کی ضرورت ہے، جس میں ہم وہ حقائق جان سکیں جو مطالعہ پاکستان میں نہیں پڑھائے جاتے، پوری بات اپنے آپ  شیشے کی طرح صاف ہو جائے گی۔ اور آپ میں سے جو لوگ میری طرح سست الوجودیت کا شکار ہیں اور کتاب پڑھنا نہیں چاہتے وہ صرف اِس بات پر غور کرلیں پاکستان میں چار مرتبہ ایسا کیا ہوا جو بھارت میں ایک مرتبہ بھی نہیں ہوا اور بنگلہ دیش نے یہ تجربہ کرکے ہمیشہ کے لیے جان چھڑا لی؟
درست جواب دینے والے کو ایل ایل بی کی اعزازی سند اور ایک کالا کوٹ انعام میں دیا جائے گا تاکہ وہ پاکستان میں قانون سے ماورا ہو کر زندگی گزار سکیں۔
  • اردو نیوز میں شائع ہونے والے کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر:

متعلقہ خبریں