زندہ رہنے کے تین فارمولے

ایک لمحے کے لیے تو مجھے یوں لگا جیسے مجھے پولیس مقابلے میں پار کرنے لگے ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
یہ بیس برس پرانا واقعہ ہے، آج بھی حسب حال ہے اس لیے یاد آگیا۔ میں اپنی گاڑی میں جا رہا تھا کہ اچانک کسی نے پیچھے سے ہارن پہ ہارن بجانا شروع کر دیا، شیشے میں دیکھا تو پولیس کی وین تھی، میں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ کیا طوفان آ گیا ہے، بس اتنا کرنا تھا کہ پولیس والے بائیں طرف سے مجھے کاٹ کر آگے آئے اور میری گاڑی کا راستہ روک دیا۔
میں گاڑی سے اترا اور دیکھا کہ پانچ چھ پولیس والے مجھ پر براہ راست بندوقیں تانیں کھڑے ہیں اور اپنے افسر کے اشارے کے منتظر ہیں، ان کے ہاتھ ٹریگر پر تھے، ایک لمحے کے لیے تو مجھے یوں لگا جیسے گنگا رام ہسپتال کے سامنے مجھے پولیس مقابلے میں پار کرنے لگے ہیں۔
تاہم اس حالت میں بھی فدوی نے پولیس افسر سے تھوڑی سی تلخ کلامی کر ڈالی کہ اُس کا ڈرائیور ہارن کیوں بجا رہا تھا، اگر کوئی ایمرجنسی تھی تو سائرن بجاتا اور راستہ بنا لیتا، اصولی طور پر تو اس جواب کے بعد افسر کو گولی چلانے کا حکم دے دینا چاہیے تھا، مگر شکر ہے کہ اُس نے فقط خونخوار نظروں سے دیکھنے پر اکتفا کیا اور یہ سنہری مشورہ دے کر چلا گیا کہ آئندہ کسی پولیس والے کو اِس قسم کا جواب نہ دینا، ہر کوئی میری طرح رحم دل نہیں ہوتا، یقینا یہ اُس کی مہربانی تھی کہ فائر نہیں کھولا ورنہ ملک یقیناً ایک عظیم دانشورسے محروم ہو جاتا۔

اپنے ملک میں تو راہ چلتی گاڑی پر پولیس گولیاں برسا کر پورے خاندان کو ختم کر سکتی ہے۔ (فائل فوٹو:اے ایف پی)

ویسے تو دنیا میں کہیں بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے مگر اپنے ملک میں توکسی بات کی کوئی گارنٹی نہیں۔ راہ چلتی گاڑی پر پولیس گولیاں برسا کر پورے خاندان کو ختم کر سکتی ہے۔ ان حالات میں زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ تین باتیں پلے سے باندھ لیں اور ان پر اندھا دھند عمل کریں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ بھول جائیں باعزت زندگی کوئی چیز ہوتی ہے، زندگی ضروری ہے، عزت اضافی ہے، مل جائے تو بہت اچھا نہ ملے تو بھی خدا کا شکر ادا کریں کہ پورا دن گزار کر آپ صحیح سلامت گھر واپس آ گئے ہیں اور بچوں کے ساتھ بیٹھے ہنسی خوشی دال چاول کھا رہے ہیں۔
عزت آنی جانی چیز ہے جبکہ زندگی صرف ایک با ر ملتی ہے سو اگر کبھی کوئی پولیس والا ناکے پر روکے تو فوراً زمین پر پیٹ کے بل لیٹ جائیں (جیسے امریکی فلموں میں دکھاتے ہیں) اور ہاتھ گردن کے پیچھے باندھ لیں، اس عمل کے نتیجے میں یقینا پولیس والوں کی ہنسی چھوٹ جائے گی اور وہ آپ کو دہشت گرد سمجھنے کی بجائے سرکس کا کوئی جوکر سمجھ کر چھوڑ دیں گے، گولیاں مار کر نسل نہیں مکائیں گے۔

زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ تین باتیں پلے سے باندھ لیں اور ان پر اندھا دھند عمل کریں۔ (فائل فوٹو:اے ایف پی)

دوسری بات، اگر آپ نے اس ملک میں زندہ رہنا ہے اور کسی حد تک عزت بھی بچانی ہے تو پھر سسٹم کا حصہ بن جائیں، یہ سسٹم کیا بلا ہے یہ سمجھنا بہت ضرور ی ہے، سسٹم کا مطلب یہ نہیں کہ سرکار کی نوکری میں آ جائیں کیونکہ سرکاری نوکری تو بیچارہ سکول ٹیچر بھی کرتا ہے مگر کسی وقت بھی رسوا ہو سکتا ہے۔ سسٹم کا مطلب ہے آپ اُس سمت میں کھڑے ہو جائیں جہاں اصل طاقت کا منبہ ہے۔ اب یہ کیسے معلوم ہو کہ طاقت کا منبہ کہاں ہے اور کیا چاہتا ہے؟
اِس ضمن میں فقط اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر اس ملک میں رہتے ہوئے اگر کوئی شخص اب تک یہ نہیں جان سکا کہ اصل طاقت کہاں سے پھوٹتی ہے تو پھر اسے واقعی زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں، لیکن اگر آپ یہ راز پا چکے ہیں تو پھر یہ معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں کہ سسٹم آپ سے کیا چاہتا ہے، کرنا آپ نے یہ ہے کہ چند دن تک کچھ مخصوص قسم کے کالم نگاروں کی باتیں پڑھ کر یاد کر لینی ہیں اور ہمایوں سعید، مہوش حیات، شاہد آفریدی اور ماہرہ خان وغیرہ کی چہکاریں (ٹویٹس) دیکھنی ہیں کہ کس سمت میں ہیں، بس اسی سمت میں اپنا منہ کرکے چل پڑنا ہے، خدا نے چاہا تو ایک دن سسٹم کا حصہ بن جائیں گے، اُس کے بعد کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ آپ کو ہاتھ بھی لگا سکے۔

اگر آپ نے زندہ رہنا ہے اور کسی حد تک عزت بھی بچانی ہے تو پھر سسٹم کا حصہ بن جائیں۔ (فائل فوٹو:اے ایف پی)

اگر کسی وجہ سے اوپر دیے گئے دونوں فارمولوں پر عمل کرنا مشکل ہو تو پھر یہ تیسرا فارمولہ آزمائیں شرطیہ کام کرے گا۔ اپنی زندگی کا بیمہ کروا لیں اور خیال رکھیں کہ اُس میں یہ شق موجود ہو کہ نا گہانی موت کے نتیجے میں آپ کے بچوں کو کچھ کروڑ روپے مل جائیں، ساتھ ہی یہ وصیت بھی لکھوا ڈالیں کہ جب ریاست ایسے کسی قتل کے نتیجے میں ’معافی‘ کے بدلے پیسوں کی پیشکش کرے تو ورثا بلا تامل قبول کرلیں، میڈیا کے جھانسے میں آ کر انصاف کے انتظار میں نہ بیٹھے رہیں، یہ نہ ہو کہ اس چکر میں ڈالر مہنگا ہو جائے اور دو کروڑ کی قیمت ایک کروڑ رہ جائے۔ یہ فارمولہ آپ کی زندگی میں تو کام نہیں آئے گا البتہ بچوں کا کچھ نہ کچھ بھلا ہو جائے گا۔

شیئر: