کنگ عبداللہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی نے ایوارڈ جیت لیا 

یہ ٹیکنالوجی اس سال مچھلیوں کی افزائش کے ماہرین کے حوالے کی جائے گی۔ فوٹو العربیہ
کنگ عبداللہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی ’کاوسٹ‘ نے امریکی شہر لاس ویگاس میں زیر استعمال الیکٹرانک اشیا کی بین الاقوامی نمائش (CES) 2020 ءمیں انوویشن ایوارڈ (جدت طرازی ) جیت لیا۔ ا س نمائش کی سرپرستی سی ٹی اے کررہی ہے۔

بلو فن ایک برس تک سطح سمندر کے نیچے 2کلو میٹر تک کی گہرائی میں موثر رہتی ہے۔ فوٹو العربیہ 

العربیہ نیٹ کے مطابق کاوسٹ میں انجینیئرنگ کے پروفیسر محمد مصطفی حسین نے ’بلوفن‘ آلہ تیار کیا ہے۔ اسے مچھلیوں پر ڈھکن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسے نصب کیا جاسکتا ہے ۔ اس سے مچھلیوں کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اس کی بدولت پانی کا درجہ حرارت ، دباﺅ، گہرائی اور ایسے سمندری علاقوں میں کھارے پن کی مقدار دریافت کی جاسکتی ہے جہاں انسانوں کی رسائی مشکل ہوتی ہے۔

یونیورسٹی اعلیٰ ٹیکنالوجی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے اپنے آپ کو منوا رہی ہے۔ فوٹو العربیہ

بلو فن کا وزن 2.4گرام ہے۔ یہ ایک برس تک سطح سمندر کے نیچے 2کلو میٹر تک کی گہرائی میں موثر رہتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اس سال غوطہ خوروں ، سمندری افواج اور مچھلیوں کی افزائش کے ماہرین کے حوالے کی جائے گی۔
سی ای ایس نمائش پوری دنیا میں بیشتر رہنما ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے انتہائی اہم مسابقتی پلیٹ فارم کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کے توسط سے مستقبل کی مصنوعات کی مارکیٹنگ ہوتی ہے اور ان کا تعارف کرایا جاتا ہے۔
کنگ عبداللہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے پروجیکٹ کو انوویشن ایوارڈ ملنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ یونیورسٹی اعلیٰ ٹیکنالوجی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے اپنے آپ کو منوا رہی ہے۔
ڈاکٹر محمد مصطفی حسین نے کہا کہ سی ای ایس ایوارڈ اپنے شعبے میں نوبل ایوارڈ کے ہم پلہ ہے۔ یہ اعزاز ملنے پر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ یہ ایوارڈ خلاف توقع ملا ہے۔
               
 
خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

شیئر: