’آرڈر نہیں پہنچا، تنخواہ کاٹی جائے گی‘

اس پوسٹ میں یہ نہیں بتایا گیا ہے یہ واقعہ پاکستان کہ کس شہر میں پیش آیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا
حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ڈلیوری بوائے کی تصویر کی وجہ سے صارفین میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
یہ تصویر فیس بک صارف وسیم الطاف نے شیئر کی تھی اور ساتھ لکھا تھا کہ یہ ڈلیوری بوائے سڑک کنارے کھڑا رو رہا تھا کیونکہ تیز بارش کے باعث وہ کھانے کا آرڈر وقت پر لے کر نہیں پہنچ سکا جس کی وجہ سے کسٹمر نے کھانا لینے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’کھانے کے آرڈر کے پیسے، جو کہ 38 سو روپے تھے، اس لڑکے کی تنخواہ میں سے کاٹے جائیں گے جو صرف 10 ہزار روپے ماہانہ ہے۔
اس کے ساتھ ہی وسیم الطاف نے ایک سوال اٹھایا کہ ’کیا ہمیں ایسے غریب افراد کا خیال نہیں کرنا چاہیے جو بھیک مانگنے کے بجائے محنت کر کے روزی کماتے ہیں۔‘
اس پوسٹ میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کہ کس شہر میں پیش آیا ہے۔ تاہم اس تصویر سے متعلق سوشل میڈیا پر اور باتیں بھی گردش کر رہی ہیں۔
فیس بک صارف حمزہ جٹ نے اس بارے میں ’اصل واقعہ‘ لکھتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنا کھانا لینے ایک جگہ پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ یہ رائیڈر کہیں اور سے آرڈر پہنچا کر واپس آرہا تھا اور سردی اور بارش کی وجہ سے کانپ بھی رہا تھا۔
’اُس کو دیکھ کر میں بھی کانپنے لگا اور جب پوچھا کہ اسے اس آرڈر پہنچانے پر ٹپ کتنی ملی تو اس نے جواب دیا 10 روپے۔ کیا آپ یقین کر سکتے ہیں؟‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’جب میں نے ان سے پوچھا کہ آیا وہ اس ٹپ سے خوش ہیں تو انہوں نے مسکرا کر کہا کہ ان پر دو غیر شادی شدہ بہنوں کی ذمہ داری ہے۔‘
حمزہ بٹ اور اس پوسٹ پر کمنٹ کرنے والے کئی صارفین کا ماننا ہے کہ آرڈر پہنچانے والے کو ٹپ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کسٹمر کا ہوتا ہے لیکن ایسے موسم میں مذکورہ لڑکے کا خیال کرنا چاہیے تھا۔
حمزہ نے لکھا کہ ’ہوسکتا ہے آپ کی چھوٹی سی مدد ان کو مشکلات سے نکال سکے کیونکہ ویسے ہی وہ اتنی محنت کر رہے ہوتے ہیں۔ برائے کرم ان کے ساتھ نرمی برتیں اور جتنا ہو سکے ان کی مدد کریں۔‘

شیئر: