سعودی عرب مصنوعی ذہانت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے: ٹیکنالوجی ایگزیکٹیوز
جمعرات 29 جنوری 2026 0:00
کانفرنس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی کلاؤڈ کے ڈھانچے میں جدید تبدیلوں کو نمایاں کیا گیا (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب میں ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ رہنماؤں نے ریاض میں ایک تقریب کے دوران مصنوعی ذہانت کے لیے مملکت کے بڑھتے ہوئے عزم اور ارادے کو اجاگر کیا ہے۔
اس تقریب میں، جس کا موضوع ’دا اورے کل آے آئی ورلڈ ٹُوئر ریاض‘ تھا، سینیئر سرکاری اہکار، کاروباری لیڈر، ٹیکنالوجی کے فیصلہ ساز، ڈیویلپر اور اختراع پسندوں نے شرکت کی۔
تقریب کا مقصد اس بات پر غور کرنا تھا کہ مصنوعی ذہانت، صنعت کے شعبے میں انقلابی تبدیلوں کا باعث بن رہی ہے، معاشی تنوع کی رفتار کو تیز کر رہی ہے اور مختلف تنظیموں کو محفوظ انداز سے وسیع بنیادوں پر اختراع متعارف کرانے کے قابل بنا رہی ہے۔
اس ایک روزہ کانفرنس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی کلاؤڈ کے ڈھانچے میں جدید تبدیلوں، ڈیٹا بیسز اور اس کے اطلاق کو نمایاں کیا گیا اور مصنوعی ذہانت کو سعودی وژن 2030 کے مطابق ڈیجیٹل تبدیلی اور معاشی ترقی کے لیے کلیدی محرک کے طور پر پیش کیا گیا۔

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے سعودی ٹیلی کام کمپنی ’ایس ٹی سی‘ میں ’ڈیجیٹل سلوشنز‘ کے نائب صدر سعود الشریحی نے بتایا ’مملکت میں ڈیجیٹل حل کی طلب بہت زیادہ ہے جہاں ڈیجیٹل معیشت کی نمو میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔‘
’سعودی عرب ڈیجیٹل نمو کے لحاظ سے دنیا کے بہترین ممالک میں سے ایک ہے۔ مملکت کی مجموعی قومی پیداور میں ڈیجیٹل معیشت کا حصہ سولہ فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ ہمارا عزم یہ ہے کہ ہم مملکت کو ایسے عالمی مرکز کے طور پر پیش کریں جہاں ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت، جدت اور اختراع کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔‘

رچرڈ سمتھ نے جو یورپ، مشرقِ وسطٰی اور افریقہ کے کے لیے ایگزیکٹو نائب صدر ہیں، کہا کہ’ ریاض میں ہونے والا ایونٹ ظاہر کرتا ہے کہ ’اورے کل‘ طویل مدت کے لیے مملکت کے ساتھ وابستگی اور ریجن کے ماحولیاتی نظام میں اپنے وسیع ہوتے ہوئے کردار پر کاربند ہے۔‘
رچرڈ سمتھ کا کہنا تھا ’اورے کل سعودی عرب میں کئی سال سے کام کر رہا ہے اور ہم اس شراکت داری کی وجہ سے بہت خوش ہیں۔ ہم نے نشوو نما کی طویل المدت حکمتِ عملی کے تحت ریجن میں کافی زیادہ سرمایہ کاری کی ہے جو 14 بلین ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔‘

’مصنوعی ذہانت اب تجربے کی حدود سے آگے نکل گئی ہے اور ایسے کاروباری حل پیش کر رہی ہے جو قابلِ پیمائش ہیں۔ دنیا میں ادارے یہ نہیں پوچھ رہے کہ کیا مصنوعی ذہانت واقعی کام کرتی ہے بلکہ وہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے فوائد کی طرف دیکھ رہے ہیں۔‘
سعودی حکومت نے مصنوعی ذہانت پر سنہ 2030 تک 40 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے لیے مختلف منصوبوں کا آغاز کیا ہے اور توقع ہے کہ رقم آنے والے برسوں میں دو گنا ہو جائے۔
