Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: پتنگ بازی سے درجنوں پرندے ہلاک

رضاکار ان پرندوں کو بچانے آئے لیکن تب تک ایک سو 52 پرندے مر چکے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
تہواروں اور تقریبات میں خوشی کا اظہار کرنے کے لیے اکثر ایسی چیزیں استعمال میں لائی جاتی ہیں جو بظاہر تو لطف اندوز ہوتی ہیں مگر اس کے کئی نقصانات بھی ہوتے ہیں۔
اس کی مثال انڈیا میں ایک حالیہ واقعے سے ملتی ہے جہاں پتنگ بازی کے ایک سالانہ تہوار کے دوران ڈیڑھ سو سے زائد پرندے پتنگ کی تیز دھار ڈور پھرنے کی وجہ سے مر گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے متعلقہ حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انڈیا میں رضاکار ان پرندوں کو بچانے کے لیے پہنچے لیکن تب تک ایک سو 52 پرندے مر چکے تھے۔

 

اس کے علاوہ انڈیا کی ریاست گجرات اور مہاراشٹرا میں سینکڑوں پرندے پتنگوں کی ڈور کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔
یہ ڈور کانچ کے پاؤڈر سے تیار کی جاتی ہے تاکہ دوسری پتنگوں کو کاٹنے میں مدد دے سکے۔
پرندوں کو بچانے والے ایک گروپ کے لیے کام کرنے والے رضاکار ہرشیل شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے مہاراشٹرا اور گجرات میں قائم سینٹرز میں جنوری 14 اور 15 کو سات سو 50 کالیں آئیں۔ یہ وہ تاریخیں ہیں جب مکر سکرانتی کا تہوار بہت جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے جس میں پتنگ بازی کی جاتی ہے۔
’ہم نے زیادہ سے زیادہ پرندوں کو بچانے کی کوشش کی لیکن 20 فیصد سے زائد پرندے ڈور میں پھنسنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاسکے اور مر گئے۔‘

سورت شہر میں تہوار میںکئی افراد پتنگ کا پیچھا کرتے کرتے یا چھتوں سے گر کر زخمی ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

ممبئی میں ایک کیمپ سے الوؤں، کوئلوں اور ایک گلہریوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی اطلاعات بھی آئی ہیں۔
گجرات کے شہر سورت میں اس تہوار میں شریک ہونے والے کئی افراد بھی پتنگوں کا پیچھا کرتے کرتے یا چھتوں سے گر کر زخمی ہوئے۔
بدھ کو لکھنو شہر میں میٹرو ٹرین کو 12 منٹ کے لیے روک دیا گیا تھا کیونکہ اس کی بجلی کی تار پر ایک پتنگ کی ڈور پھنس گئی تھی۔ یہ گذشتہ 10 مہینوں میں ہونے والا چوتھا ایسا واقعہ ہے۔

پتنگ کی ڈور کی وجہ سے سڑکوں پر حادثات بھی عام ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

چینی ڈوروں کا استعمال نئی دہلی میں ممنوع ہے لیکن اس پابندی پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے اس کا استعمال اب بھی عام ہے۔
پتنگ کی ڈور کی وجہ سے انڈیا میں سڑکوں پر حادثات بھی عام ہیں۔

شیئر: