امریکی سینیٹ سے 70 ارب ڈالر کا فنڈ منظور، تارکین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن ہونے والا ہے؟
امریکی سینیٹ سے 70 ارب ڈالر کا فنڈ منظور، تارکین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن ہونے والا ہے؟
جمعہ 5 جون 2026 16:03
اس فنڈ کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی ایک بڑی سیاسی کامیابی سمجھا جا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی سینیٹ نے جمعے کو تارکین کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی پر عمل درآمد کے لیے 70 ارب ڈالر کے فنڈ کی منظوری دے دی ہے۔
فرانیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فنڈ کی یہ منظوری ایک طویل دن کی ووٹنگ اور متعدد ترامیم کے بعد ہوئی، جس سے ریپبلکن پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی نمایاں ہوئے۔
فنڈ کی منظوری کا بِل 52 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے منظور ہوا اور کسی بھی ڈیموکریٹ سینیٹر نے اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔
اس قنڈ کی رقم ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدتِ صدارت کے دوران امریکی امیگریشن اور کسٹم انفورسمنٹ، سرحدی گشت کی کارروائیاں بڑھانے اور غیرقانونی تارکین کی ملک بدری کے اقدامات کے لیے مختص کی جائے گی۔
یہ معاملہ گذشتہ کئی ماہ سے شدید سیاسی تنازعے کا شکار تھا اور اس فنڈ کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی ایک بڑی سیاسی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔
سینیٹ سے منظوری کے بعد اب یہ بل ایوانِ نمائندگان میں جائے گا، جہاں ریپبلکن رہنما توقع کر رہے ہیں کہ آئندہ ہفتے کے شروع میں اسے منظور کروا کر صدر ٹرمپ کے پاس دستخط کے لیے بھیج دیا جائے گا۔
اگرچہ اصل امیگریشن بل میں اب بال رُوم کی رقم شامل نہیں ہے، لیکن یہ دونوں معاملات ریپبلکن پارٹی کے اندر اس بڑھتی ہوئی بے چینی کی وجہ بن گئے۔
ریپبلکن رہنما فکرمند ہیں کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازع ترجیحات کا دفاع کیسے کیا جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے معاملے پر ووٹرز میں بڑی تشویش پائی جاتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے رواں برس 21 جنوری سے 75 ممالک کے شہریوں کو امریکی امیگرنٹ ویزہ جاری کرنے کا عمل معطل کردیا جن میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔
محکمۂ خارجہ کے مطابق ’امریکہ 75 ممالک سے آنے والے تارکین وطن کے لیے امیگرنٹ ویزہ پروسیسنگ عارضی طور پر معطل کیا ہے کیونکہ ان ممالک سے آنے والے تارکین امریکی عوام کی فلاحی سہولیات سے ناقابل قبول حد تک فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف امریکہ کے متعدد شہروں میں مظاہرے بھی ہو چکے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکہ اس بات کو یقینی نہیں بنا لیتا کہ نئے تارکین وطن امریکی عوام کے وسائل پر بوجھ نہیں بنیں گے۔‘
مزید کہا گیا کہ ’محکمہ خارجہ اس حوالے سے اپنے طریقۂ کار کا ازسرِنو جائزہ لے گا،‘ ویزوں کی معطلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔
محکمہ خارجہ نے مزید کہا کہ ’ہزاروں‘ ویزے جرائم کی بنیاد پر منسوخ کیے گئے، جن میں حملہ اور نشے میں گاڑی چلانا شامل ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ویزوں کے لیے جانچ سخت کر دی ہے جس میں سوشل میڈیا پوسٹس کی سکریننگ بھی شامل ہے۔
یہ ویزہ منسوخیاں بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم کا حصہ ہیں، جو وفاقی ایجنٹوں کے ذریعے جارحانہ انداز میں کی جا رہی ہیں۔
دسمبر 2025 میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے چھ لاکھ سے زیادہ افراد کو ملک بدر کیا ہے جبکہ دیگر 25 لاکھ افراد خود ہی ملک چھوڑ گئے۔‘
یاد رہے کہ اس مبینہ پابندی کو ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوری 2025 میں صدارت سنبھالنے کے بعد اپنائی گئی امیگریشن کی سخت گیر پالیسیوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔