Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ میں غیر قانونی تارکین کے خلاف اقدامات مزید سخت، سینیٹ سے صدر ٹرمپ کا 70 ارب ڈالر کا فنڈ منظور

امریکی سینیٹ نے جمعے کو غیرقانونی تارکین کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی پر عمل درآمد کے لیے 70 ارب ڈالر کے فنڈ کی منظوری دے دی ہے۔
فرانیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فنڈ کی یہ منظوری ایک طویل دن کی ووٹنگ اور متعدد ترامیم کے بعد ہوئی، جس سے ریپبلکن پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی نمایاں ہوئے۔
فنڈ کی منظوری کا بِل 52 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے منظور ہوا اور کسی بھی ڈیموکریٹ سینیٹر نے اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔
اس قنڈ کی رقم ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدتِ صدارت کے دوران امریکی امیگریشن اور کسٹم انفورسمنٹ، سرحدی گشت کی کارروائیاں بڑھانے اور غیرقانونی تارکین کی ملک بدری کے اقدامات کے لیے مختص کی جائے گی۔
یہ معاملہ گذشتہ کئی ماہ سے شدید سیاسی تنازعے کا شکار تھا اور اس فنڈ کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی ایک بڑی سیاسی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔
سینیٹ سے منظوری کے بعد اب یہ بل ایوانِ نمائندگان میں جائے گا، جہاں ریپبلکن رہنما توقع کر رہے ہیں کہ آئندہ ہفتے کے شروع میں اسے منظور کروا کر صدر ٹرمپ کے پاس دستخط کے لیے بھیج دیا جائے گا۔
اگرچہ اصل امیگریشن بل میں اب بال رُوم کی رقم شامل نہیں ہے، لیکن یہ دونوں معاملات ریپبلکن پارٹی کے اندر اس بڑھتی ہوئی بے چینی کی وجہ بن گئے۔
ریپبلکن رہنما فکرمند ہیں کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازع ترجیحات کا دفاع کیسے کیا جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے معاملے پر ووٹرز میں بڑی تشویش پائی جاتی ہے۔
 

شیئر: