آبنائے ہرمز کا بحران: عمان کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے ذریعے انڈیا کو نئی تجارتی راہداری حاصل
عمان خلیجی خطے میں انڈیا کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ (فوٹو: عرب نیوز)
ماہرین کے مطابق، عمان کے ساتھ انڈیا کی بڑھتی ہوئی شراکت داری نے نئی دہلی کو اہم درآمدات کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث سپلائی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) اس ہفتے کے آغاز میں نافذ العمل ہو گیا۔
انڈیا-عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) کے تحت انڈیا اپنی زیادہ تر مصنوعات عمان کو بغیر کسٹم ڈیوٹی کے برآمد کر سکے گا، جو عمان کو ہونے والی انڈین برآمدات کی مجموعی مالیت کے تقریباً 99 فیصد حصے کا احاطہ کرتی ہیں۔
کم ٹیرف اور بہتر تجارتی قوانین سے انڈین بزنسز کی مسابقت برقرار رکھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں نافذ ہوا ہے جب 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
عمان میں انڈیا کے سابق سفیر اور ویویکانند انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے ممتاز رکن انیل وادھوا نے کہا کہ ’انڈیا اور عمان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کا نفاذ مشرق وسطیٰ کے بحران اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث فوری اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ دنیا کی توانائی اور تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’انڈیا کے لیے یہ معاہدہ صرف تجارت نہیں بلکہ ایسے وقت میں اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کا ذریعہ ہے جب عالمی سپلائی چینز تیزی سے بدل رہی ہیں۔‘
اگرچہ انڈیا نے اپنی درآمدات کے ذرائع متنوع بنانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں، لیکن اب بھی وہ خام تیل کی تقریباً 30 فیصد اور ایل پی جی کی 90 فیصد درآمدات کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار کرتا ہے۔
انڈیا کی وزارت تجارت و صنعت کے مطابق عمان کی اہم بندرگاہیں صحار، دقم اور صلالہ انڈین برآمد کنندگان کو خلیجی خطے اور مشرقی افریقہ کی منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کریں گی، اور آزاد تجارتی معاہدہ ایک نئی تجارتی راہداری کو فعال بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
وادھوا کے مطابق یہ معاہدہ انڈیا کو کئی عملی فوائد فراہم کرتا ہے، جن میں متبادل لاجسٹک راستے، دوستانہ ٹرانس شپمنٹ مرکز، سرمایہ کاری کے روابط،اور ایسا تجارتی شراکت دار شامل ہے جو تجارتی راہداریوں کو کھلا رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اگرچہ یہ معاہدہ کسی بڑے علاقائی جنگ کے معاشی اثرات سے انڈیا کو مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی بحری و سفارتی حکمت عملیوں کا متبادل بن سکتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
وادھوا نے کہا کہ ’اکیسویں صدی میں تجارت اور تنازعات کی کشمکش میں جغرافیہ اب بھی اہمیت رکھتا ہے، اور ایسے معاہدے اس کے فوائد کو مزید بڑھاتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہاکہ ’یہ معاہدہ ایک تاریخی مثال قائم کرتا ہے اور اسے جدید دور کی حفاظتی ڈھال اور پل میں تبدیل کرتا ہے، جو انڈین تجارت کو فوری علاقائی اثرات سے بچانے کے ساتھ ساتھ انڈیا کی اقتصادی خواہشات کے لیے اہم منڈیوں تک رسائی بھی بڑھاتا ہے۔‘
یہ معاہدہ خلیجی تعاون کونسل کے کسی ملک کے ساتھ انڈیا کا دوسرا آزاد تجارتی معاہدہ ہے۔ اس سے قبل 2022 میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ ایسا معاہدہ طے پایا تھا۔ عمان کے لیے بھی یہ امریکہ کے ساتھ 2006 کے آزاد تجارتی معاہدے کے بعد دوسرا دوطرفہ تجارتی معاہدہ ہے۔
عمان خلیجی خطے میں انڈیا کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور مالی سال 2025-26 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 11 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (CII) کے سینئر ڈائریکٹر منیش موہن کے مطابق کہ ’یہ سٹریٹجک معاہدہ نہ صرف انڈیا کی مینوفیکچرنگ اور انجینئرنگ برآمدات کو فروغ دیتا ہے بلکہ سپلائی چینز کو آبنائے ہرمز پر انحصار سے دور لے جانے اور خلیجی خطے میں انڈیا کے جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔‘
