Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شمالی کوریا کا ایٹمی ہتھیاروں کا ایندھن بنانے کے لیے نیا پلانٹ

کم جونگ اُن نے کہا کہ اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات میں ’ایٹمی قوت کو انتہائی تیز رفتاری سے بڑھانے کے لیے مستقبل کے منصوبے کی ترجیحات طے کی گئیں۔‘ (فوٹو: اے پی)
شمالی کوریا نے جمعرات کو ایک نئے پلانٹ کا انکشاف کیا ہے جو ایٹمی بم کے ایندھن تیار کرے گا۔ ملک کے حکمران کم جونگ اُن نے اعلان کیا کہ ملک اپنی ایٹمی قوت کو ’انتہائی تیز رفتاری سے‘ بڑھانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹد پریس کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے اس مقام کو یورینیم افزودگی کا پلانٹ قرار دیا اور کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر شمالی کوریا کی ایٹمی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ یہ پلانٹ ’زیادہ جدید ٹیکنالوجی‘ کا استعمال کرتا ہے، مگر مزید وضاحت نہیں دی۔ یہ واضح نہیں کہ پلانٹ کہاں واقع ہے یا کب سے کام کر رہا ہے۔ سرکاری میڈیا کی تصاویر میں ایک بڑا ہال دکھایا گیا ہے جس میں سینٹری فیوجز موجود ہیں، جو ہتھیاروں کے معیار کا یورینیم تیار کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
یہ انکشاف کم جونگ اُن کے اس عزم کے مطابق ہے کہ وہ امریکی قیادت میں بڑھتے ہوئے فوجی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایٹمی پروگرام کو وسعت دیں گے۔
کم جونگ اُن کا دعویٰ: بم ایندھن کی پیداوار میں اضافہ
کم جونگ نے دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا کی ہتھیاروں کے معیار کے ایٹمی مواد کی پیداوار کی صلاحیت پچھلے پانچ سالوں کے مقابلے میں دوگنی ہو گئی ہے۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات میں ’ایٹمی قوت کو انتہائی تیز رفتاری سے بڑھانے کے لیے مستقبل کے منصوبے کی ترجیحات طے کی گئیں۔‘
ایٹمی توسیع کی رفتار
شمالی کوریا نے 2017 کے بعد کوئی ایٹمی تجربہ نہیں کیا، لیکن اس نے ایٹمی صلاحیت والے میزائلوں کا ذخیرہ بڑھایا ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس اب 100 سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ہو سکتے ہیں، اور ہر سال مزید 6 سے 18 تک تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رافائل گروسی نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کی ایٹمی سہولیات میں سرگرمیوں میں ’تیز اضافہ‘ دیکھا گیا ہے (فوٹو: روئٹرز)

جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق شمالی کوریا چار یورینیم افزودگی پلانٹس چلا رہا ہے، جن میں یانگ بیون کمپلیکس بھی شامل ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی نے اپریل میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کی ایٹمی سہولیات میں سرگرمیوں میں ’تیز اضافہ‘ دیکھا گیا ہے۔

 

شیئر: