چین کے صدر کو ’گالی‘ دینے پر فیس بک نے معافی مانگ لی

کسی بھی چینی سربراہ کا بیس سالوں میں برما کا یہ پہلا دورہ ہے۔ فوٹو اے ایف پی
فیس بک نے چین کے صدر شی جن پنگ سے نام غلط لکھنے پر معافی مانگی ہے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق شی جن پنگ برما کے دو روزہ تاریخی دورے پر تھے جب فیس بک نے ان کے نام کا برمی زبان سے انگریزی میں غلط ترجمہ کر ڈالا۔
شی جن پنگ کے اس دورے کو میڈیا میں انتہائی اہمیت دی جا رہی تھی۔ کسی بھی چینی سربراہ کا 20 برس میں برما کا یہ پہلا دورہ ہے۔
برما کی لیڈر آنگ سان سوچی کے جب سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے برمی زبان میں چین کے صدر کے پہنچنے کا اعلان کیا گیا، تو فیس بک کے ترجمے والے فیچر نے شی جن پنگ کا انگریزی زبان میں غلط ترجمہ کر دیا جس کا مطلب گالی کے مترادف تھا۔
آنگ سان سوچی کے فیس بک پیج پر چینی صدر کے دورے کے حوالے سے مزید معلومات بھی شیئر کی گئی تھیں۔ ہر جگہ پر شی جن پنگ کے نام کا ترجمہ گالی کے مترا دف ہی کیا گیا۔
فیس بک نے تکنیکی مسائل کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے چین کے صدر سے غلطی کی معافی مانگی ہے۔
فیس بک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے برمی زبان سے انگریزی میں درست ترجمہ نہیں ہو سکا تھا۔
’ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، اور ہم ایسے اقدامات لے رہے ہیں جو یہ یقینی بنائیں کہ ایسی غلطی دوبارہ نہ ہو۔‘
فیس بک نے وضاحت دی ہے کہ شی جن پنگ کا نام ان کے برمی زبان کے ڈیٹا میں موجود نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں فیس بک کا سسٹم خود ہی اندازہ لگا کر، ڈیٹا میں موجود ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔
برما میں باخبر رہنے کے لیے فیس بک سب سے مشہور ذریعہ ہے۔
سیاستدان اور سرکاری عہدیدار بھی اعلانات اور بیانات کے لیے فیس بک کا ہی استعمال کرتے ہیں۔
دنیا بھر میں فیس بک کے دو ارب سے زیادہ صارفین ہیں، لیکن چین میں اس کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔

شیئر: