لیبیا کی جنگ: مداخلت نہ کرنے کا عزم

عالمی رہنما لیبیا کے متحارب دھڑوں کو امن معاہدے پر راضی نہ کر سکے، فوٹو: اے ایف پی
لیبیا میں جنگ کے خاتمے کے لیے جرمنی میں ہونے والی ’برلن کانفرنس‘ میں عالمی رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ طرابلس میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کو روکنا ہو گا اور فریقین کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی اقوام متحدہ کی پابندی پر عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو برلن کانفرنس میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی میزبانی میں ترک صدر رجب طیب اردوغان، روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور فرانس کے صدر میکخواں دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ اکھٹے ہوئے تاکہ ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں جس کے تحت لیبیا کی جنگ میں بیرونی مداخلت کو روکا جا سکے۔
اے ایف پی کے مطابق عالمی رہنما لیبیا کے متحارب دھڑوں کو ایک مستقل امن کے معاہدے پر راضی کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
واضح رہے کہ لیبیا میں وزیراعظم فیاض السراج کی حکومت ہے جس کو اقوام متحدہ تسلیم کرتا ہے جبکہ ان کے مخالف فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر ہیں۔
 برلن کانفرنس کی میزبان جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا کہ ’ہمیں لیبیا میں ایک انتہائی مختلف صورتحال کا سامنا ہے جہاں تمام فریقوں سے فوری جنگ بندی پر عمل کرانا اور اسے یقینی بنانا آسان نہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’لیکن مجھے امید ہے کہ اس کانفرنس سے ہمیں یہ موقع ملا ہے کہ سیز فائر معاہدہ آگے بڑھے گا۔‘
اے ایف پی کے مطابق امریکہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ’ابھی تک کچھ سوالات ہیں کہ کرائی گئی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کی نگرانی ’کیسے اور کتنے مؤثر طریقے’ سے ہو سکے گی۔‘

جرمنی میں مقیم لیبیا کے شہریوں نے اپنے ملک میں امن کے لیے مظاہرہ کیا، فوٹو: اے ایف پی

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’وہ پرامید ہیں کہ تشدد کم ہو گا اور لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان بات چیت کے لیے کوشاں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے غسان سلامی کو موقع ملے گا۔‘
یاد رہے کہ سنہ 2011 میں لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے نیٹو کی کارروائی میں مارے جانے کے بعد ملک میں خانہ جنگی کی صورت حال ہے۔
گذشتہ سال کے دوران فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر اور سراج حکومت کی لڑائی میں 280 عام شہری مارے گئے جبکہ ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔

شیئر: