پنجاب میں تحریک انصاف کا نیا گروپ

فارورڈ بلاک کے ممبران کو شکایت ہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال سے ان کے حلقوں میں کوئی کام نہیں ہوئے۔ فوٹو سوشل میڈیا
پچھلے کئی دنوں سے افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ تحریک انصاف کو شاید پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کی طرف گامزن ہونا پڑے اور ق لیگ کو مستقبل میں پنجاب کا پلیئر مانا جا رہا ہے۔ مقامی میڈیا نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ پنجاب کے اگلے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی ہوں گے اور اس حوالے سے انہیں ن لیگ کا اعتماد حاصل ہو گا۔
اب پنجاب میں تحریک انصاف کے بیس کے قریب اراکین صوبائی اسمبلی نے ایک گروپ تشکیل دیا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات کی ہے۔ نئے گروپ کے راہنما ایم پی اے سردار شہاب الدین خان جن کا تعلق لیہ سے ہے انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے اس نئے بننے والے دھڑے کی تصدیق کی ہے۔
 ان کا کہنا تھا ’ہاں آپ کہ سکتے ہیں کہ ہم نے ایک گروپ بنایا ہے اور اس گروپ میں زیادہ تر ایم پی ایز کا تعلق جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب سے ہے، اور ہم سارے پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن جیتے ہیں۔ لیکن اس نئے بننے والے گروپ کا تعلق کسی سیاسی معاملے سے نہیں ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ سیاسی وابستگی ہر صورت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہی رہے گی۔ اور جماعت کی جو بھی سیاسی لائن ہے اس سے انحراف نہیں کیا جائے گا۔

تو پھر دھڑے بندی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

سردار شہاب الدین خان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اگر پارٹی سے اختلاف نہیں ہے تو پھر نیا گروپ بنانے کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ’پچھلے ڈیڑھ سال سے ہمارے حلقوں میں کوئی کام نہیں ہوئے ہم ووٹ لے کر آئے ہیں اور اپنے حلقے کے عوام کو جواب دہ ہیں۔ اب ہمیں شرمندگی ہوتی ہے اپنے حلقوں میں جاتے ہوئے۔ لوگ ہمیں کام کہتے ہیں اور ہمارے پاس ان کی سکیموں کو منظور کروانے کا چارہ نہیں۔‘
 

مستقبل میں ق لیگ کو پنجاب کا پلیئر مانا جا رہا ہے۔ فوٹو سوشل میڈیا

انہوں نے مزید کہا کہ اس گروپ کا مقصد صرف اور صرف ترقیاتی کاموں سے متعلق ہے اور سب نے اکھٹے فیصلہ کیا ہے کہ یک زبان ہو کر اپنے مطالبات منوائیں گے۔
’اس حوالے سے ہمارے گروپ کی وزیراعلیٰ پنجاب سے دو ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں اور ہم نے ان کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے ہماری باتیں سنی ہیں اور مسائل کو حل کروانے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے پنجاب میں اس نئے بننے والے دھڑے کے ایک اور رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس گروپ میں شامل تمام ایم پی ایز نے اکھٹے حلف اٹھایا ہے کہ کوئی بھی بات ہو گی تو مشترکہ ہو گی۔ اور جو بھی مطالبات کیے جائیں گے وہ مشترکہ ہی رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ اور کوئی حل بھی نہیں تھا۔
اصلیت کچھ بھی ہو لیکن تحریک انصاف میں ایسے وقت میں ایک ایسے گروپ کا سامنے آنا جو بظاہر حکومتی کارکردگی سے خائف نظر آرہا ہے، مستقبل کے سیاسی منظر نامے کی جانب کئی طرح سے اشارہ کر رہا ہے۔
سیاسی پنڈت آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کی حکومت میں مزید مشکلات میں دیکھ رہے ہیں۔

شیئر: