پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے کوئٹہ میں صوبائی اسمبلی کی قریباً چار دہائی پرانی تاریخی عمارت کو گرا کر اس کی جگہ نئی عمارت تعمیر کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ پرانی عمارت گرانے کے لیے ٹینڈر جاری کردیا گیا ہے، نئی عمارت دو برسوں میں تعمیر ہو گی۔
بلوچستان اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ موجودہ عمارت میں مزید گنجائش نہیں رہی۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اسمبلی کی عمارت نہیں گرنی چاہیے مگر اب ضروریات بڑھ گئی ہیں۔ ہمیں اور کہیں مناسب زمین نہیں مل رہی، اس لیے اسی جگہ نئی عمارت تعمیر کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ چیمبر ضرورت کے مطابق نہیں، وومن کاکس کے لیے علیحدہ جگہ موجود نہیں جبکہ دیگر صوبوں میں جدید تقاضوں کے مطابق اسمبلیاں تعمیر ہو چکی ہیں۔
مزید پڑھیں
-
سرداری نظام کے ناقد سرفراز بگٹی خود ’چیف آف بگٹی‘ کیسے بنے؟Node ID: 898958
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق اس منصوبے کے لیے فنڈ فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی سے کہا کہ وہ نئی عمارت کے ڈیزائن کے لیے تجاویز دیں۔
تاہم اپوزیشن ارکان نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ نیشنل پارٹی کے رکن رحمت بلوچ نے مطالبہ کیا کہ نئی عمارت کی تعمیر سے پہلے موجودہ عمارت کی ایسسمنٹ رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ عمارت واقعی ناقابلِ استعمال ہے یا نہیں۔
بلوچستان اسمبلی کی عمارت کی تاریخی اہمیت
بلوچستان اسمبلی کی موجودہ عمارت کی تعمیر کا آغاز سنہ 1973 میں اس وقت کے گورنر بلوچستان نواب اکبر بگٹی کے دور میں ہوا۔ عمارت کا تصور بلوچی ’گدان‘ (خیمہ) سے لیا گیا جو بلوچی ثقافت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ نواب اکبر بگٹی نے اسی ثقافتی شناخت کو مدنظر رکھتے ہوئے خیمے کی طرز کا آرکیٹیکچرل ڈیزائن تجویز کیا تھا۔
کوئٹہ شہر کے وسط میں زرغون روڈ پر 12 ایکڑ اراضی اس منصوبے کے لیے مختص کی گئی۔ اپریل 1987 میں قریباً پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر مکمل ہوئی اور اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اس کا افتتاح کیا۔
سنہ 1970 میں ون یونٹ کی تحلیل کے بعد بلوچستان کو صوبے کا درجہ ملا اور اسمبلی وجود میں آئی، تاہم ابتدائی برسوں میں اس کے لیے باقاعدہ عمارت موجود نہیں تھی۔ اسمبلی کا پہلا اجلاس شاہی جرگہ ہال (موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن ہال) میں منعقد ہوا اور سنہ 1987 تک کارروائی وہیں ہوتی رہی۔ موجودہ عمارت میں پہلا اجلاس سنہ 1987 میں منعقد ہوا۔
اسمبلی ہال میں قریباً 72 ارکان کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس کے علاوہ گورنر، قائد ایوان، سپیکر اوراراکین کی مشترکہ گیلری میں مہمانوں کے لیے 25 اور صوبائی حکومت کے سینیئر افسران کے لیے بھی 25 نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ بالائی حصے میں مہمانوں کے لیے 168 جبکہ صحافیوں کے لیے 55 نشستیں مختص ہیں۔
اسمبلی کی عمارت میں وزیراعلیٰ، سپیکر، ڈپٹی سپیکر، قائد حزب اختلاف کے لیے چیمبرز اور وزرا اور سیکریٹری اسمبلی کے لیے دفاتر بھی موجود ہیں۔ لائبریری، میڈیا سینٹر، اسمبلی سیکریٹریٹ کے لیے الگ بلاک، مسجد، ایم پی اے ہاسٹلز، سٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمین کے دفاتر بھی اسمبلی کے احاطے میں قائم ہیں۔

سپیکر صوبائی اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کا کہنا ہے کہ اسمبلی کی عمارت نئی بننے کی صورت میں ایڈمن بلاک بھی گرایا جائے گا۔
بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تعداد ابتدا میں 21 تھی جو بڑھ کر 65 ہو چکی ہے۔ ایوان ایک قرارداد کے ذریعے ارکان کی تعداد 85 تک بڑھانے کی سفارش بھی کرچکا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ موجودہ عمارت میں توسیع کی گنجائش نہیں رہی جبکہ بارشوں کے دوران پانی ٹپکنے جیسے مسائل بھی درپیش ہیں۔
’عمارت اتنی بوسیدہ نہیں کہ اسے گرایا جائے‘
بلوچستان اسمبلی کے سابق سیکریٹری شمس الدین کے مطابق عمارت کے ڈیزائن میں ابتدا ہی سے کچھ خامیاں موجود تھیں اور خیمے کی شکل دینا تکنیکی طور پر مشکل تھا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ عمارت اتنی بوسیدہ نہیں کہ اسے گرایا جائے۔ اگر مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر نئی عمارت بنانا مقصود ہے تو یہ الگ بات ہے۔
کوئٹہ کے صحافی نور العارفین نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تعمیر کی گئی حفاظتی دیواروں نے عمارت کی خوب صورتی متاثر کی مگر اس کے باوجود یہ صوبے کی منفرد اور دلکش عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ صوبے کی پارلیمانی تاریخ کی علامت ہے۔
صوبائی حکومت نے 25-2024 کے مالی سال کے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت اس منصوبے کے لیے پانچ ارب روپے مختص کیے ہیں جن میں پہلے برس کے لیے 50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

’30 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر‘
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے صوبے میں جہاں بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہو، پانچ ارب روپے ایک عمارت پر خرچ کرنا ترجیحات کا سوال کھڑا کرتا ہے۔ محکمہ تعلیم بلوچستان کی 22-2021 کی رپورٹ کے مطابق صوبے کے 15 ہزار سکولوں میں سے 3424 صرف ایک کمرے پر مشتمل ہیں، 12 فیصد سکول عمارت سے محروم ہیں، جبکہ 52 فیصد سکولوں میں چار دیواری موجود نہیں۔ 70 فیصد سکولوں میں پانی، 58 فیصد میں ٹوائلٹ اور 78 فیصد میں بجلی کی سہولت دستیاب نہیں۔ 30 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔
گوادر سے منتخب رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے ایوان میں کہا تھا کہ ایسے صوبے میں جہاں لوگ علاج کے لیے کراچی کے ہسپتالوں کے باہر فٹ پاتھوں پر پڑے رہتے ہیں اور لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں، وہاں پانچ ارب روپے ایک عمارت پر خرچ کرنا افسوس ناک ہے۔ حکومت کو پیسہ عمارتوں کے بجائے انسانوں پر خرچ کرنا چاہیے۔
سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے نئی عمارت کی تعمیر کے بجائے موجودہ عمارت کی مُرمت اور تزئین و آرائش کی تجویز دی تھی۔ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سوال اٹھایا تھا کہ جب 100 برس پرانے کچے مکانات آج بھی قابل استعمال ہیں تو یہ عمارت کیوں گرائی جا رہی ہے؟
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر عمارت گرا دی گئی تو نئی تعمیر مکمل ہونے میں 10 سے 20 برس لگ سکتے ہیں تاہم وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ منصوبہ دو برس میں مکمل کر لیا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی کے سابق ترجمان اور سینیٹر امان اللہ کنرانی نے عمارت کو گرانے کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کیا تھا۔ ان کا موقف ہے کہ چونکہ عمارت نواب اکبر بگٹی کی یاد سے منسوب ہے اس لیے اسے سیاسی عداوت کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔












