’دوسروں کی نجی زندگی اور کیریئر‘

دوسروں کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی سے ڈپریشن اور دیگر ذہنی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ فوٹو: انسپلیش
 سوشل میڈیا نے اظہار رائے کو آسان بنا دیا ہے، بعض اوقات سوشل میڈیا کے باعث بہت سے مسائل کا حل بھی ملتا ہے۔ بہت سی چیزوں پر ڈسکشن بھی ہوتی ہے۔ خواتین کے بہت سے ایسے مسائل، ایسے دکھ جو وہ عام زندگی میں کسی سے شیئر نہیں کر سکتیں وہ مختلف خواتین کے لیے بنے گروپس میں شیئر کرتی ہیں۔ ان کے حل پر بحث ہوتی ہے۔ فی زمانہ ٹینشن ختم کرنے اور مثبت رویوں کو فروغ دینے کے لیے یہ ایسی ڈسکشنز ناگزیر ہیں۔ 
اگر عمومی طور پر رویوں کی بات کی جائے تو ہمارے ہاں عام طور پر کسی کی نجی زندگی کے حوالے سے سوال جواب بڑے آرام سے کر لیے جاتے ہیں ایسے سوالات جن کا جواب ہمارے لیے ضروری نہیں ہوتا۔ مثلاً شادی کب کر رہی ہو۔ شادی کر لی تو بچے نہیں ہوئے؟ خوش خبری کب سنا رہی ہو؟ بیٹیاں ہیں تو بیٹا نہیں ہوا؟ ہمدردی کی آڑ میں ایسے جملے کہے جاتے ہیں کہ دوسرا خود ترسی میں مبتلا ہو جائے۔ محرومی کا احساس بڑھ جائے۔ 

ایسے ایسے سوال پوچھے جاتے ہیں کہ انسان احساس محرومی کا شکار ہو جاتا ہے۔ فائل فوٹو: انسپلیش

آج ہی ایک گروپ میں ایک خاتون کی پوسٹ نظر آئی جنہوں نے لکھا تھا ’میری اور میرے شوہر کی پسند کی شادی ہے۔ پانچ سال گزرنے کے بعد بھی ہمارے بچے نہیں ہیں۔ ہم دونوں نے اس معاملے کو ایشو نہیں بنایا ہم آپس میں خوش ہیں لیکن آس پاس والے پوچھتے ہیں اور مسلسل اس سوال سے میں اس قدر تنگ ہوں کہ مجھ میں چڑچڑاپن آ گیا ہے میں بات بات پر شوہر سے لڑتی ہوں ہمارا تعلق متاثر ہو رہا ہے.‘
اسی طرح ایک گروپ میں ایک خاتون نے لکھا کہ میری تین بیٹیاں ہیں میں اپنی خوبصورت اور صحت مند بیٹیوں کے ساتھ خوش ہوں ان کی اچھی تربیت کرنا چاہتی ہوں لیکن ہر بار مجھ سے یہی کہا جاتا ہے کہ بیٹا نہیں ہے، ہو جاتا تو بڑھاپے کا سہارا بن جاتا اور یہ سوچ مجھے ابھی سے خوفزدہ کر دیتی ہے کہ کیا واقعی میرے پاس بڑھاپے کا سہارا نہیں؟

سوشل میڈیا ویمن گروپس میں خواتین ایسی اذیت کا ذکر کرتی رہتی ہیں جو لوگ انہیں بلاوجہ ہی دیتے ہیں۔ فائل فوٹو: انسپلیش

اسی طرح کچھ لڑکیاں ان روایتی آنٹیوں کا ذکر کرتی ہیں جو ہر لڑکی کو نظروں میں تولتی اور ٹٹولتی ہیں۔ ان کے والدین کو سمجھاتی ہیں کہ جلد شادی کر دو عمر بڑھ رہی ہے۔ لڑکی کے والدین یا لڑکی اس موقع پر کیا محسوس کرتے ہیں یہ وہی جانتے ہیں۔ 
ایک دوسرے کی نجی زندگی، خواہشات، کیریئر، آزادی ہمارے مسائل نہیں ہیں لیکن ان کو ڈسکس کرنا ہمارے ہاں عام ہے۔ معاشرے میں بڑھتی بے چینی، ڈپریشن ٹینشن یہ مسائل خود بخود پیدا نہیں ہوتے معاشرہ اور معاشرے میں رہنے والے اردگرد والے اس فیز میں لے آتے ہیں کہ کسی ایک مسئلے پر فوکسڈ ہو کر اپنے آپ کو ذہنی اذیت دی جائے۔ 
ان موضوعات جن سے ہمارا کوئی سروکار نہیں، جن میں ہماری ہمدردی دوسرے کی تکلیف کا باعث ہو اس سے بچنا ضروری ہے۔ اگر صرف ان موضوعات سے بچا جائے جن کا تعلق ہم سے براہ راست نہیں تو ہم دوسروں کو بڑی اذیت دینے سے بچ سکتے ہیں۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: