سعودی عرب پر ہیکنگ کے الزام پر امریکی میڈیا کے سوالات

امیزون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیف بیزوس کی جانب سے ان کا اکاؤنٹ ہیک کیے جانے کے دعوے سے متعلق چھان بین پر سائبر سکیورٹی کے ماہرین اور وال سٹریٹ جرنل، نیو یارک ٹائم اور ایسوسی ایٹڈ پریس سمیت متعدد امریکی میڈیا ہاؤسز نے سوالات اٹھائے ہیں۔
ماہرین نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ایف ٹی آئی کنسلٹنگ کی جانب سے نجی طور پر کی گئی چھان بین کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے کافی نہیں ہے اور نہ ہی اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جیف بیزوس کا فون واقعی ہیک ہوا تھا۔
وال سٹریٹ جرنل نے سنیچر کو معاملے سے واقف افراد کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مین ہٹن کے فیڈرل پراسیکیوٹرز کے پاس موجود شواہد بتاتے ہیں کہ جیف بیزوس کی گرل فرینڈ نے اپنے بھائی کو ٹیکسٹ پیغامات بھیجے جو اس وقت نیشنل انکوائرر کو امیزون سربراہ کے افیئرز سے متعلق آرٹیکل کے لیے فروخت کیے گئے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹ میں ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ہیکنگ سے متعلق چھان بین میں ہیکنگ کیسے ہوئی اور کون سا سپائی ویئر سافٹ ویئر استعمال ہوا، جیسے بہت سے سوالوں کے جواب نہیں دیے گئے۔
نیویارک بیسڈ سائبر سکیورٹی ادارے کے بانی اور ایڈیٹر انچیف سٹیومورگن کہتے ہیں کہ الزام کا جائزہ لیتے ہوئے اندازوں اور تخمینوں کو بنیاد بنایا گیا ہے لیکن ثبوت کے متعلق یقین کا اظہار نہیں کیا۔
یوکے سے تعلق رکھنے والے سائبر سکیورٹی کنسلٹنٹ رابٹ پچرڈ کے مطابق ہیکنگ کی چھان بین کچھ حوالوں سے بہت ہی ادھوری ہے۔ ’میرے خیال میں جو نتیجہ اخذ کیا گیا ہے اس کا ثبوت نہیں ملتا۔‘
فیس بک کے سابق چیف سکیورٹی آفیسر الیکس سٹیمس نے لکھا کہ ایف ٹی آئی کی چھان بین واقعاتی شواہد رکھتی ہے لیکن کچھ واضح نہیں کرتی۔
دبئی میں مقیم فرانسیسی انٹرپر نیور اور سائبر سکیورٹی فرم کومے ٹیکنالوجیز کے بانی میٹ ساشے نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انویسٹی گیشن میں پیش کیے گئے سکرین شاٹ میں نمایاں ہے کہ فون ہیکنگ میں استعمال ہونے والی مشتبہ فائل اب بھی متاثرہ فون میں موجود ہونی چاہیے۔

جیف کی گرل فرینڈ نے تمام مواد اور معلومات رپورٹرز کو فراہم کیں (فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے کہا کہ اگر فائل ڈیلیٹ کر دی گئی ہے تو چھان بین سے متعلق رپورٹ میں اس کا ذکر ہونا چاہیے تھا یا یہ بتانا چاہیے تھا کہ اسے حاصل کرنا کیوں ممکن نہیں ہے۔ ایسا نہ کیا جانا ثابت کرتا ہے کہ معاملے کی جانچ پڑتال درست طریقے سے نہیں کی گئی ہے۔
بدھ کو سامنے آنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جیف بیزوس کا فون ہیک کرنے میں سعودی عرب ملوث ہے۔ امیزون کے سربراہ کا فون اس وقت ہیک کیا گیا جب انہیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ذاتی واٹس ایپ اکاؤنٹ سے بھیجا گیا میسیج موصول ہوا تھا۔
امریکہ میں سعودی ایمبیسی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی تردید کی تھی۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے الزامات کو قیاس آرائی پر مبنی پاگل پن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب حقیقی شواہد پیش کیے جانے کا منتظر ہے۔
وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں فارنزک ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ایف ٹی آئی کی جانچ پڑتال میں سعودی عرب کو ممکنہ ہیکنگ کے پس پردہ قرار دینا چھان بین میں نظر انداز کیا گیا اقدام لگتا ہے۔

سائبر سکیورٹی کنسلٹنٹ رابٹ پچرڈ کے مطابق ہیکنگ کی چھان بین کچھ حوالوں سے بہت ہی ادھوری ہے (فوٹو: روئٹرز)

سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ تفتیش کے ناقدین نے اسے نفاست سے محروم قرار دیا ہے۔ ایس اے این ایس انسٹی ٹیوٹ کی سارہ ایڈورڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا یوں لگتا ہے کہ ایف ٹی آئی نے اس پر خاطر خواہ کوشش نہیں کہ بلکہ وہ موبائل فارنزک کے معاملے میں اتنی مہارت نہیں رکھتے جتنی انہیں رکھنی چاہیے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایف ٹی آئی کی چھان بین میں فون کی ممکنہ ہیکنگ اور نیشنل انکوائرر میں جیف بیزوس کے غیر ازدواجی تعلقات سے متعلق آرٹیکل کے درمیان تعلق تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم ایسا کوئی ربط مشتبہ ہی رہا ہے۔
نیشنل انکوائر کے مالک امریکی میڈیا ہاؤس نے جیف بیزوس سے متعلق لیک ہونے والے پیغامات میں ان کی گرل فرینڈ کے ملوث ہونے کے متعلق لکھا تھا کہ ’ہماری تحقیق کے واحد ذریعے کو مکمل طور پر ڈاکیومنٹ کیا گیا ہے۔ ستمبر 2018 میں جیف کی گرل فرینڈ لورین سانچز نے تمام مواد اور معلومات ہمارے رپورٹرز کو فراہم کرنا شروع کیں۔ ہمارے کام میں کسی اور کی مداخلت یا شمولیت کا الزام غلط ہے۔‘

شیئر: