’غیر ملکی کارکن ناسور نہیں ترقی کے ساتھی‘

‘غیر ملکی کارکنوں نے مملکت کی ترقی کے لیے بہت کچھ کیا‘۔ فوٹو اے ایف پی
رکن شوری ٰ کونسل ڈاکٹر محمد عبداللہ آل عباس کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکن ' ناسور ' نہیں بلکہ مملکت کی تعمیر وترقی میں ہمارے شریک ہیں۔
'جو لوگ غیر ملکی کارکنوں کو مملکت کے لیے نقصان دہ کہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں' ۔آل عباس نے سعودی اکنامک فورم میں خطاب کے بعد 'سبق'  نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا ' میں غیرملکیوں کا دفاع نہیں کر رہا، لیکن ہمیں درست بات کہناچاہئے اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بولنا چاہیے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ غیر ملکی کارکن مملکت کے لیے کینسر کی طرح ہیں جو قطعی طور پر غلط ہے ، حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی ہماری تعمیر و ترقی میں ہمارے برابر کے شریک رہے ہیں بلکہ سعودی عرب کو اب بھی ماہر اور تربیت یافتہ ہنر مند کارکنوں کی ضرورت ہے'۔

سعودی عرب کو اب بھی ماہر اور تربیت یافتہ کارکنوں کی ضرورت ہے ۔ فوٹو ، سوشل میڈیا 

رکن شوری ٰ کونسل نے مزید کہا' ہمیں غیر ملکی کارکنوں کو اس نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے ، جب مملکت معاشی ترقی کی جانب رواں ہوا تو ہمیں غیر ملکی کارکنو ںکی اشد ضرورت تھی'۔
'یہ درست ہے کہ ابتداء میں مملکت میں ٹیکس اور فیسیں نہیں تھیں نہ ہی رقوم بھیجنے پر کسی قسم کی پابندی عائد تھی جس سے انہو ںنے فائدہ اٹھایا تاہم یہ بھی درست ہے کہ غیر ملکی کارکنوں نے مملکت کی ترقی کے لیے بہت کچھ کیا'۔
غیر ملکی کارکنوں کے ساتھ از سرنو تعلقات کے حوالے سے سوال پر ڈاکٹر آل عباس کا کہنا تھا کہ 'ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان تعلقات کا از سرنو جائزہ لیکر دوبارہ حکمت عملی مرتب کریں نہ کہ ہم ان کے حوالے سے منفی سوچ رکھیں ، ہمارا معاشرہ عفو و درگزر کا معاشرہ ہے، ہمیں حقیقی ترقی کو مدنظررکھنا چاہئے اور جواقتصادی  ترقی میں ہمارے شریک رہے ہیں'۔
غیرملکیوں کے ساتھ از سرنو معاملات مرتب کرنے کی حکمت عملی کے سوال پر رکن شوری ٰ کا کہنا تھا ' یہ بھی درست ہے کہ ہمیں "طفیلی " کارکنوں کی نہیں بلکہ ماہر اورتربیت یافتہ کارکنوں کی ہمیشہ سے ضرورت رہی اور رہے گی ، طفیلی کارکن کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں جو معیشت کو متاثر کرنے کا سبب بنتے ہیں ،ہمیں ضرورت ایسے کارکنوں کی ہے جو بہتر نتائج دیں جومملکت کی اقتصاد کے لیے بھی بہتر ثابت ہوں اور خود بھی مستفیض ہوں'۔

شیئر: