سوشل میڈیا کمپنیوں سے تنازع: پاکستان کو فائدہ ہوگا؟

پاکستان کی طرف سے ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب، ٹِک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نئے قواعد کی منظوری پر حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے معاشی فائدہ ہو گا جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر غیر ملکی کمپنیوں کی طرف سے انکار پر ان کی سروسز بند کی گئیں تو پاکستان کے چھوٹے کاروباروں ( سٹارٹ اپس)، سیاحت کی صنعت اور طالب علموں کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
وفاقی حکومت نے گذشتہ کابینہ اجلاس میں سوشل میڈیا سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دی تھی جس کے تحت ان تمام کمپنیوں کو پاکستان میں رجسٹر ہو کر اپنے دفاتر قائم کرنا ہوں گے اور پاکستان کے سائبر قوانین کے مطابق عمل کرنا ہو گا، بصورت دیگر انہیں بلاک بھی کیا جا سکے گا۔
ان قوانین کی منظوری پر جہاں سوشل میڈیا صارفین اور ان کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے وہاں حکومت کی جانب سے اسے معاشی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے ذریعے ملک میں ڈیجیٹل میڈیا سے آمدنی آنے کا امکان ہے۔ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ اور ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ’ ڈیجیٹل میڈیا سے آنے والی آمدن روایتی میڈیا سے زیادہ ہو گی اس لیے ضروری تھا کہ اسے ریگولیٹ کیا جائے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی ملک اتنے پیسے کا  بغیر کسی کنٹرول کے باہر جانا برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ ایک معاشی فیصلہ ہے سیاسی نہیں۔‘
تاہم اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے عوام کے انٹرنیٹ حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم بائٹس فار آل کے ڈائریکٹر شہزاد احمد نے حکومتی منطق مسترد کر تے ہوئے کہا کہ ’وہ خود بھی 2010 سے اب تک فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب سے رابطے میں ہیں اور ان کمپنیوں نے پاکستان آںے سے آج تک مسلسل انکار کیا ہے۔‘
’اگر تو مقصد یہ تھا کہ فیس بک، ٹوئٹر، گوگل، یوٹیوب اور انسٹا گرام جیسی بڑی بڑی کمپنیوں کو کسی دائرہ کار میں لایا جائے تو یہ کمپنیاں تو بالکل بھی اس امر پر تیار نہیں کہ اپنے دفاتر پاکستان لائیں اور یہاں کے قوانین کی پابند ہوں۔‘

نئے قواعد کے تحت ان کمپنیوں کو پاکستان میں رجسٹر ہو کر دفاتر قائم کرنا ہوں گے

انہوں نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بہت سارے سماجی اور معاشی فوائد ہیں۔ جو لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں وہ صرف تصویریں ہی شیئر نہیں کرتے، بہت سارے چھوٹے کاروبار سوشل میڈیا کے مرہون منت ہیں۔
’آپ کے یوٹیوبر ہیں، آپ کے انٹرنیٹ مواد بنانے والے ہیں، آرٹس اور فلم کی جو ساری انڈسٹری ہے وہ اس کی مرہون منت ہے۔ آپ بہت سی ایسی جگہوں پر تکلیف پہنچانے جا رہے ہیں جس کا نقصان شاید بڑی بڑی مشہور شخصیات کو ہو گا مگر چھوٹے چھوٹے جو کاروبار ہیں ان کا کیا کریں گے آپ؟‘
ان کا کہنا تھا کہ استعمال شدہ جوتے پاکستان میں آن لائن بکتے ہیں، شرٹس بکتی ہیں اور ہر قسم کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بکتی ہیں۔ ’یہ چھوٹی چھوٹی آن لائن مارکیٹیں ہیں جو گھروں سے چلتی ہیں کیا ان سب کو بند کر دیں گے؟‘
انہوں نے سوال کیا کہ ’حکومتی اقدام کے جو بہت زیادہ معاشی نقصانات ہوں گے اس کا کون ذمہ دار ہو گا؟‘

نئے قوانین کی منظوری پر سوشل میڈیا صارفین اور غیر سرکاری تنظیموں نے مایوسی کا اظہار کیا 

’یہ (سوشل میڈیا ) کتنے سارے لوگوں کا ذریعہ معاش ہے؟ پہلے آپ کی مہنگائی کی شرح 14.7 پر گئی ہوئی ہے تو پھر آپ نوجوانوں کے لیے ایک اور آمدنی کا ذریعہ ختم کردیں گے تو آپ کیا کر رہے ہیں؟‘
’یہ لوگ جو کاروبار چلا رہے ہیں پاکستان میں اور خاص طور پر جو چھوٹی سطح کے کاروبار ہیں تو ان کا بھی بہت زیادہ نقصان ہو گا اور مجھے لگتا ہے کہ ہماری معاشی صورت حال کافی بدترین ہوتی چلی جائے گی۔‘ 
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے نسٹ یونیورسٹی کی طالبہ ماریہ ارشاد نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر قدغن لگانا حکومت کا عاقبت نا اندیشی پر مبنی فیصلہ ہے۔ سوشل میڈیا پر نوجوان بہت سارے موضوعات کے حوالے سے علم بھی حاصل کرتے ہیں اور اگر نئے قواعد کے باعث پاکستان میں یہ سروسز بند ہوئیں تو نوجوانوں کا علمی نقصان بھی ناقابل برداشت ہو گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’جو پاکستانی یوٹیوب اور فیس بک کے ذریعے رقم کماتے ہیں وہ بھی اس سے متاثر ہوں گے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو گا۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ  فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب نے پاکستان آںے سے مسلسل انکار کیا ہے

انٹرنیٹ پر سنسرشپ کے خلاف کام کرنے والے ادارے ’بولو بھی‘ کی شریک بانی فریحہ عزیز نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اگر پاکستانی حکومت چاہتی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان میں آ کر کاروبار کریں اور معاشی سرگرمی میں حصہ لیں تو اس کا یہ طریقہ نہیں کہ انہیں قواعد کے ذریعے دھمکایا جائے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب کبھی نہیں مانیں گے کہ وہ اپنا ڈیٹا سرور پاکستان لائیں خاص طور پر جبکہ پاکستان میں ڈیٹا پروٹیکشن کا قانون بھی ابھی تک نہیں بنا۔‘
انہوں نے تسلیم کیا کہ کئی دیگر ممالک بھی سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ انڈیا کی حکومت کی مداخلت کے نتیجے میں کشمیر کے حوالے سے فیس بک اور ٹوئٹر پوسٹس کو سنسر کیا جاتا ہے اور صارفین کے اکاونٹس کو بلاک بھی کیا جاتا ہے۔‘
  • واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: