Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کاروبار کی پیشکش پر غیر ملکی مشکل میں

تارکین وطن کو کاروبار کرانے پر پابندی ہے۔فوٹو: سوشل میڈیا
 سعودی عرب میں مقامی شہری اپنے نام سے تارکین وطن کو کاروبار کرا رہے ہیں۔ سعودی قانون اس پر پابندی لگائے ہوئے ہے۔ اسے مقامی قانون کی زبان میں (تستر تجاری)کہا جاتا ہے۔ ا س مطلب ہے کہ سعودی غیر ملکی کے کاروبار پر پردہ ڈالے ہوئے ہے۔
المرصد ویب سائٹ کے مطابق سعودی حکومت غیر ملکیوں کو کاروبار کرانے والے مقامی شہریوں پر بھی شکنجہ کس رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے آگہی مہم بھی چلائی جارہی ہے۔
 ویب سائٹ کے مطابق ایک سعودی شہری نے ماہانہ پانچ ہزار ریال کے بدلے لانڈری کے کاروبار کی پیشکش کرنے والے ایک غیر ملکی کو مشکل میں ڈال دیا۔

مقامی شہری اپنے نام سے تارکین وطن کو کاروبار کرا رہے ہیں۔فوٹو: سوشل میڈیا

تفصیلات کے مطابق مقامی شہری نے اس ادارے کے نام ایک خط تحریر کیاجو سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کے کاروبار کے رواج کے خاتمے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اسے (البرنامج الوطنی لمکافحتہ التستر التجاری) کا نام دیا گیا ہے۔
مقامی شہری نے اپنے خط میں لکھا ’میرے پاس ایک غیر ملکی آیا ہے اس کا کہناہے کہ اس نے پچاس ہزار ریال میں لانڈری خریدی ہے۔ وہ مجھے ہر مہینے کے آخر میں پانچ ہزارریال دے گا۔ لانڈری کی ساری ذمہ داریاں اس کی ہوں گی۔ میرے لیے کیا مشورہ ہے؟‘۔
سعودی ادارے نے جواب میں خبردار کیا ’ کوئی بھی سعودی شہری اس قسم کے معاملات نہ کرے۔ یہ جرم ہے اس پر دو برس تک قید اور دس لاکھ ریال تک کا جرمانہ بطور سزا مقرر ہے۔ اس جرم کی ایک سزا یہ بھی ہے کہ مقامی شہری کا تجارتی اندراج ختم کردیا جاتا ہے۔ مقامی اخبارات میں اس کی تشہیر خود اس کے خرچ پر کی جاتی ہے‘۔
 

شیئر: