Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مٹاپے کا شکار خواتین، کویت پہلے نمبر پر

کویت پہلے نمبر پر ہے۔ موٹی خواتین کا تناسب 77 فیصد ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)
عرب ممالک جہاں مٹاپے کا شکار خواتین سب سے زیادہ ہیں۔ ان میں کویت پہلے نمبر پر ہے جہاں ایسی خواتین کا تناسب 77 فیصد ہے۔ 
ان ممالک میں قطر دوسرے نمبر پر ہے جہاں مٹاپے کا شکار خواتین کی شرح 75 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
الامارات الیوم نے عالمی بینک کی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں مٹاپے کے صحت اور معیشت پر منفی اثرات اجاگر کیے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں مٹاپے کا تناسب کتنا ہے؟

 سعودی عرب میں مٹاپے کی شکار خواتین 73.7 فیصد ہیں (فائل فوٹو: عرب نیوز) 

عالمی بینک کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ بعض عرب ممالک میں مٹاپے کا شکار خواتین کا تناسب بہت زیادہ بڑھا ہوا ہے۔ مٹاپا ایک بیماری ہے اور غیر متعدی امراض میں سب سے زیادہ خطر ناک ہے۔
رپورٹ کے مطابق موٹی خواتین کے حوالے سے 10 عرب ممالک سب سے آگے ہیں۔
اس فہرست میں میں عراق دسویں نمبر پر ہے جہاں موٹاپے کا شکار خواتین کا تناسب 70 فیصد ہے۔ بحرین نویں نمبر پر ہے جہاں مٹاپے کا شکار خواتین کی شرح 70.5 فیصد ہے۔ لبنان 8 ویں نمبر پر ہے جہاں مٹاپے کی شکار خواتین کا تناسب 71.1 فیصد ہے۔
اسی طرح مصر موٹاپے کا شکار خواتین کی تعداد 71.3، غزہ پٹی اور غرب اردن (فلسطین) میں 71.5، جبکہ لیبیا میں 72 فیصد ہے۔

عرب ممالک میں مٹاپے کی شکار خواتین کا تناسب بہت زیادہ بڑھا ہوا ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)

اس فہرست میں سعودی عرب چوتھے نمبر پر ہے جہاں مٹاپے کا شکار خواتین 73.7 فیصد ہیں۔ اردن تیسرے نمبر پر ہے جہاں 74.2 فیصد خواتین مٹاپے کا شکار ہیں۔
رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ ’آئندہ 15 برس کے دوران ترقی پذیر ممالک میں مٹاپے سے نمٹنے کی مجموعی لاگت سات ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی‘۔
’یہ لاگت محض صحت نگہداشت پر ہی نہیں آئے گی بلکہ ڈیوٹی سے غیر حاضری، پیداوار میں کمی اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ جیسے بلواسطہ نقصانات بھی اس کا حصہ ہوں گے‘۔

شیئر: