Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران نے زیادہ تر پروازوں کے لیے فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دیں

ایران نے عارضی طور پر تمام پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ بین الاقوامی پروازوں کے لیے خصوصی وقت مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے پیشگی اجازت لینا پڑے گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی ہے اور ایران میں حکومت مخالف احتجاج بھی زوروں پر ہے۔
امریکہ کے ایک سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے کچھ اڈوں سے اپنے سرکاری اہلکاوں کو نکالا جا رہا ہے جبکہ اس سے قبل ایران کے ایک سینیئر عہدیدار نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر واشنگٹن کی جانب سے حملہ کیا گیا تو وہاں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
تنازعات کے شکار علاقوں میں میزائلوں اور ڈرونز کی موجودگی ایئرلائنز کی ٹریفک کے لیے ایک سنگین خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔
فضائی کمپنیوں نے ایران کی جانب سے فضائی حدود بند کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 
انڈیا کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اس کی پروازیں متاثر ہوں گی۔
فلائٹ ریڈار کے ریکارڈ کے مطابق بندش کے اعلان کے بعد روس کی تہران جانے والی پرواز ایئروفولٹ کو واپس ماسکو جانا پڑا۔
اس سے قبل بدھ کو جرمنی نے اپنی ایئرلائنز کے لیے نئی ہدایت جاری کی تھیں جن میں ایئرلائنز کو ایران کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا، جس کے بعد لفتھانزا ایئرلائنز نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے فلائٹ شیڈول کو تبدیل کیا تھا۔
امریکہ پہلے ہی اپنی پروازوں کو ایران کی فضائی حدود استعمال کرنے سے منع کر چکا ہے جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی براہ راست پرواز بھی موجود نہیں ہے۔

فلائٹ ریڈار کے مطابق بندش کے اعلان کے بعد تہران جانے والی روسی ایئرلائن ایئروفولٹ کو واپس جانا پڑا (فوٹو: اے ایف پی)

فضائی سفر کے حوالے سے معلومات دینے والی ویب سائٹ سیف ایئر سپیس کا کہنا ہے کہ فلائی دبئی اور ترکش ایئرلائنز سمیت دوسری کمپنیوں نے پچھلے ہفتے کے دوران ایران جانے والی اپنی کئی پروازیں منسوخ کیں۔
ویب سائٹ کے مطابق ’بہت سی ایئرلائنز پہلے ہی اپنی فضائی سروسز کو محدود یا معطل کر چکی ہیں اور اکثر پروازیں ایران کی فضائی حدود کو استعمال نہیں کر رہیں۔‘
لفتھانزا ایئرلائنز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال مزید کشیدگی یا فوجی سرگرمیوں کا اشارہ دے رہی ہے جس میں میزائل چلائے جانے یا فضائی طور پر ہونے والے دوسرے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
ایئرلائن کے مطابق ’اگلی اطلاع آنے تک ایران اور عراق کی فضائی حدود کو استعمال نہیں کیا جائے گا جبکہ بدھ سے پیر تک تل ابیب اور عمان کے لیے صرف دن کے وقت پروازیں چلائی جائیں گی تاکہ عملے کو وہاں رات کے وقت قیام نہ کرنا پڑے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایسے اقدامات کے نتیجے میں کچھ پروازیں منسوخ بھی کی جا سکتی ہیں۔‘
اسی طرح اطالوی فضائی کمپنی آئی ٹی اے ایئرویز جس میں لفتھانزا کا بھی بڑا شیئر موجود ہے، کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ بھی اگلے ہفتے کے منگل تک تل ابیب کے لیے رات کی پروازیں معطل کر دے گی۔

 

شیئر: