Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کرپٹ سیاستدان اور پیشہ ور مظاہرین‘، ٹرمپ کی منیسوٹا میں فوج استعمال کرنے کی دھمکی

صدر ٹرمپ نے منیسوٹا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک رہنماؤں کو ’کرپٹ اور مظاہرین کو پیشہ ور‘ قرار دیا ہے (فوٹو:
امریکی ریاست منیسوٹا میں بڑھتے احتجاج پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغاوت کے قانون کے نفاذ اور فوجیوں کو تعینات کرنے کی دھمکی دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شہر منیاپولس میں اس احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جو آٹھ روز پیشتر ایک امیگریشن اہلکار کی جانب سے ایک خاتون کو گولی مارنے پر شروع ہوا تھا۔
شہریوں اور فیڈرل افسران کے درمیان جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں جس سے شہر کی صورت حال میں کشیدگی پائی جاتی ہے جس کا سلسلہ دوسرے شہروں تک بھی پھیل رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ تازہ دھمکی امیگریشن اہلکاروں کے وینزویلا کے ایک شہری پر منیاپولیس میں ہی گولی چلانے کے واقعے کے بعد سامنے آئی ہے، اس کے بعد حکام نے بتایا تھا کہ جب گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا گیا تو اس نے گاڑی بھگا دی تھی جس پر اہلکاورں کو فائرنگ کرنا پڑی، جس سے وہ شخص زخمی ہو گیا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’اگر منیسوٹا سے تعلق رکھنے والے بدعنوان سیاست دان قانون کی پابندی نہیں کرتے اور پیشہ ور مظاہرین کو آئی سی ای کے محب وطن اہلکاروں جو صرف اپنا کام کر رہے ہیں، پر حملوں سے نہیں روکتے تو بغاوت کے ایکٹ کو نافذ کیا جائے گا۔‘
ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر ٹرمپ کئی ہفتوں سے ریاست سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک رہنماؤں کا مذاق اڑا رہے ہیں اور وہاں کے صومالی نژاد لوگوں کو ’کوڑا کرکٹ‘ قرار دیا، جن کو ان کے مطابق ’ملک سے باہر پھینک دینا چاہیے۔‘
امریکی صدر پہلے ہی منیاپولیس شہر میں تین ہزار فیڈرل آفیسرز کو بھجوا چکے ہیں، جو شہر کی گلیوں میں اسلحہ لیے پھرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور انہوں نے فوجیوں کی طرح وردیاں پہن رکھی ہیں اور دوسرا سامان اٹھا رکھا ہے جبکہ چہروں پر ماسک بھی چڑھائے ہوئے ہیں اور ان کو دن رات علاقے کے برہم مکینوں کا سامنا رہتا ہے۔

چند روز پیشتر ایک فیڈرل اہلکار کی فائرنگ سے خاتون ہلاک ہو گئی تھیں (فوٹو: روئٹرز)

بدھ کو لوگ بڑی تعداد میں اس مقام پر جمع ہوئے جہاں وینزویلا سے تعلق رکھنے والے شخص کو گولی ماری گئی تھی۔ اس کے بعد وہاں شدید احتجاج دیکھنے کو ملا، جس پر فیڈرل اہلکاروں نے فلیش گرینیڈ چلائے اور آنسو گیس استعمال کی۔
بعدازاں زیادہ تر لوگوں کے منتشر ہونے کے بعد جب صورت حال ذرا پرسکون ہوئی تو چند لوگوں پر ایک گروپ نکل آیا، جس نے ایک گاڑی کی توڑ پھوڑ کی، جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ ایک فیڈرل اہلکار کی ہے۔
ایک شخص نے اس پر لکھا کہ ’ہینگ کرسٹی نوئم‘، جس میں ان کا اشارہ ہوم لینڈ کی سکیورٹی سیکریٹری کی طرف تھا جو آئی سی ای کے معاملات کو دیکھتی ہیں۔
احتجاج میں شدت آنے کے بعد ایجنتوں نے کئی تارکین وطن اور مظاہرین کو گرفتار کیا ہے۔ بعض اوقات ان کو گاڑیوں کے شیشے توڑتے اور لوگوں کو باہر گھسیٹتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ پوچھے سیاہ فام اور لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بدتمیزی کے انداز میں شناخت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔

منیاپولس میں پہلے ہی تین ہزار فیڈرل اہلکار تعینات ہیں (فوٹو: روئٹرز)

صدر ٹرمپ اور منیسوٹا کے رہنما ایک دوسرے پر تشدد کو بھڑکانے کے الزامات لگا رہے ہیں۔
منگل کو ہونے والے اس واقعے نے بہت توجہ حاصل کی جس میں امریکی شہری عالیہ رحمان کو ماسک پہنے امیگریشن اہلکاروں نے زبردستی گاڑی سے باہر نکالا اور یہ سب وہیں پر ہوا جہاں پہلے ایک خاتون کو قتل کیا گیا تھا۔
انہوں نے بعدازاں روئٹرز کو بتایا کہ ’انہوں نے مجھے گھسیٹا اور جانوروں کی طرح سلوک کیا۔‘

شیئر: