Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا خروج نہائی کی خلاف ورزی پر ہروب ہوگا؟

فائنل ایگزٹ ویزہ مدت گزرنے کے بعد منسوخ کرانے پر جرمانہ ہوگا ۔ فوٹو، تواصل نیوز
محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ (جوازات) کا کہنا ہے کہ فائنل ایگزٹ لگانے کے بعد اگر کارکن وقت مقررہ پر وطن نہ لوٹے تو کفیل کو حق ہے کہ وہ اس کی اطلاع محکمہ جوازات کو دے۔
کارکن خواہ وہ گھریلو ہو یاکمپنی کا ملازم کفیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے فائنل ایگزٹ (خروج نہائی) کی کارروائی مکمل کرے۔
مقامی نیوز ویب سائٹ ’عاجل‘ نے محکمہ جوازات کے حوالے سے خبر دی ہے کہ کفیل کی جانب سے ’خروج نہائی‘ لگانے کے بعد اگر کارکن فرار ہوجائے تو اس کا ’ہروب‘ فائل کیا جاسکتا ہے۔ جوازات میں کفیل کے سسٹم سے کارکن کا ڈاٹا اسی وقت ختم ہو گا جب ایئر پورٹ کے امیگریشن آفس سےکارکن کا ایگزٹ اسٹیمپ کیا جائے گا۔
اس حوالے سے گھریلو ملازمین پر بھی یہی قوانین لاگو ہوتے ہیں۔ ایک شخص نے جوازات سے استفسار کیا کہ اس کی خادمہ جس کا وہ ’خروج نہائی‘ لگا چکا ہے وقت مقررہ پر نہیں گئی اور اس کے بارے میں معلوم بھی نہیں کہ وہ کہاں ہے ایسی صورت میں کیا کیاجائے؟

  کارکن کے فائنل ایگزٹ کی کارروائی مکمل کرنا کفیل کی ذمہ داری ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)

اس سوال پر جوازات کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ’ایسےغیر ملکی کارکن جن کے فائنل ایگزٹ اسٹیمپ ہو چکے ہوں اور وہ وقت مقررہ کے اندراپنے ملک نہ جائیں تو اس صورت میں کفیل کو چاہیے کہ وہ ان کے بارے میں فوری طور پر جوازات سے رجوع کرے۔ اس سے قبل کفیل کو چاہئے کہ وہ کارکن سے رابطہ کرے ۔ اگر رابطہ ممکن نہیں تو فائنل ایگزٹ کینسل کرانے کے بعد جوازات میں اس کا ہروب درج کرائے‘۔
دریں اثنا محکمہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کا کہنا ہے کہ ’خروج نہائی‘ کی مدت میں اگر فائنل ایگزٹ کو کینسل کرایا جائے تو اس پر کوئی جرمانہ نہیں ہوتا اس کے لیے شرط ہے کہ اقامہ کی مدت بھی باقی ہو۔

 

واضح رہے فائنل ایگزٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد اسے کینسل کرانے پر 1000 ریال جرمانہ ادا کرنا ہوتا ہے جس کے بعد اقامہ کی تجدید یا دوبارہ فائنل ایگزٹ لگایا جاسکتا ہے۔
فائنل ایگزٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد سفر نہ کرنے  پر 1000 ہزار ریال جرمانہ عائد کیاجاتا ہے۔ اگر کارکن کی غلطی کے سبب تاخیر ہوئی ہو تو اس کی ذمہ داری کارکن پر ہو گی بصورت دیگر کمپنی یا آجر اس کا ذمہ دار ہوگا۔

شیئر: