Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مودی مخالف نوجوان پر بغاوت کا مقدمہ

کنہیا کمار اور دیگر ملزمان پر انڈیا مخالف نعرے لگانے کا الزام ہے (فوٹو: اے ایف ہی)
دہلی کی حکومت نے بغاوت کے مقدمے میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے رہنما کنہیا کمار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی اجازت دے دی ہے۔
کنہیا کمار پر فروری 2016 میں جواہر لعل یونیورسٹی دہلی میں جلوس کے دوران ’انڈیا مخالف‘ نعرے لگانے کا الزام ہے۔
دہلی پولیس نے گذشتہ ہفتے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو ایک خط لکھا تھا جس میں کنہیا کمار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عمل تیز کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ خط عدالت کی جانب سے پولیس کو دی جانے والی ہدایات کے بعد وزیراعلیٰ کو لکھا گیا جس میں دہلی کی حکمران جماعت عام آدمی پارٹی کو اس مقدمے کی یاد دہانی کرائی گئی تھی۔
کنہیا کمار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کی یہ درخواست 14 جنوری سے تاخیر کا شکار ہو رہی تھی۔
کنہیا کمار اور دیگر نو افراد کے خلاف 12 سو صفحات پر مشتمل چارج شیٹ ایک سال قبل فائل کی گئی تھی۔ اس چارج شیٹ میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے دو سابق طلبہ عمر خالد اور انیربان بھٹا چاریہ کے نام بھی شامل ہیں۔
ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں ںے انڈین پارلیمنٹ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ افضل گُرو کی برسی کے موقعے پر ایک جلوس کی قیادت کی اور اس موقعے پر لگائے گئے انڈیا مخالف نعرے بازی کی حمایت بھی کی۔
تاہم عدالت نے چارج شیٹ کو مسترد کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ کارروائی سے قبل ریاستی حکومت سے اس کی منظوری حاصل کرے۔
اُس وقت عدالت نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ وہ ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے چھ فروری 2019 تک منظوری حاصل کرے۔

کنہیا کمار وزیراعظم مودی کے سخت ناقد کے طور پر سامنے آئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

گذشتہ ہفتے عدالت کی یاد دہانی کے بعد وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ ’وہ ریاست کے محکمہ داخلہ سے کہیں گے کہ وہ اس حوالے سے جلد فیصلہ کرے۔‘
یاد رہے کہ بغاوت کے مقدمے میں چارج شیٹ کی ریاستی حکومت سے منظوری لازمی درکار ہوتی ہے۔
اس مقدمے میں دہلی پولیس نے مرکز میں بی جے پی کی حکومت کی وزارت داخلہ کو رپورٹ کرنی ہے، بی جے پی وفاقی دارالحکومت کی حکمران جماعت عام آدمی پارٹی کی سخت ناقد ہے۔
دوسری جانب اس مقدمے کے مرکزی ملزم کنہیا کمار اور عمر خالد کا کہنا ہے کہ ’ان کے خلاف یہ کیس سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے۔‘

کنہیا کمار ںے کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

جھاڑ کھنڈ میں موجود کنہیا کمار نے کا کہنا ہے کہ ’جب مجسٹریٹ کی جانب سے انکوائری کی گئی تو اس وقت کہا گیا تھا کہ اس واقعے میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کا کوئی طالب علم ملوث نہیں ہے۔‘
انہوں ںے کہا کہ ’پولیس نے تین سال بعد چارج شیٹ فائل کی، ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘
خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ ’تین برس بعد الیکشن سے قبل چارج شیٹ فائل کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔‘

کیجریوال نے کنہیا کمار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی منظوری دے دی (فوٹو: اے ایف پی)

واضح رہے کہ کنہیا کمار مرکز کی حکمران جماعت بی جے پی کے سخت ناقد کے طور پر سامنے آئے ہیں اور انہوں نے گذشتہ سال پہلی بار بہار کے حلقے بیگوسرائے سے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ٹکٹ پر عام انتخابات میں حصہ لیا تھا، تاہم وہ بھارتیا جنتا پارٹی کے گری راج سنگھ سے چار لاکھ سے زائد ووٹوں سے ہار گئے تھے۔

شیئر: