Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمران خان کی عید پر بیٹوں سے فون پر بات کروائی جائے گی: عطا تارڑ

عطا تارڑ کے مطابق ’عمران خان کے بیٹے نائیکوپ پر پاکستان آسکتے ہیں اور انہیں ویزے کی ضرورت نہیں‘ (فائل فوٹو: اے پی پی)
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ’ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی عید پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اُن کے بیٹوں سے فون پر بات کروائی جائے گی۔‘
عطا تارڑ نے یہ بیان عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ سمتھ کی منگل کو کی گئی ایک پوسٹ کے جواب میں بدھ کو جاری کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے بیٹے، پاکستانی شہری ہونے کے ناتے نائیکوپ پر پاکستان آسکتے ہیں اور اس کے لیے انہیں پاکستان کا ویزہ لینے کی ضرورت نہیں۔‘
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ’بانی تحریک انصاف کے بیٹے پاکستان میں قیام کے دوران پاکستانی قوانین کی مکمل پاسداری کے پابند ہوں گے۔‘
واضح رہے کہ جمائما گولڈ سمتھ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ’میرے بیٹے سلیمان عیسیٰ خان اور قاسم خان اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان جانا چاہتے ہیں اور انہوں ںے رواں برس جنوری میں ویزے کے لیے درخواست بھی دے رکھی ہے۔‘
اُن کے مطابق ’پاکستانی قونصل خانے کا کہنا ہے کہ ویزہ پروسیسنگ کے لیے 7 سے 10 دن کا وقت درکار ہوتا ہے تاہم اب 60 روز ہو گئے ہیں۔‘
جمائمہ گولڈ سمتھ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے وزیر دفاع نے ایک انٹرویو میں وعدہ بھی کیا تھا کہ عمران خان کے بیٹے اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان آسکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سلیمان عیسیٰ خان اور قاسم خان کی عمران خان سے ٹیلی فون پر بات کروائی جاتی ہے نہ ہی ان کا خط پہنچایا جاتا ہے۔‘
’میرے بیٹوں نے چار سال سے اپنے والد کو نہیں دیکھا اور 2022 میں اُن (عمران خان) پر قاتلانہ حملہ بھی ہو چکا ہے۔‘
جمائمہ گولڈ سمتھ نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی براہِ راست اپیل کی تھی کہ وہ عمران خان کے بیٹوں کو اُن سے جلد سے جلد ملاقات کرنے دیں کیونکہ اُن کی صحت بھی ٹھیک نہیں ہے۔‘

شیئر: