Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: حکومت کا ایک اور خاتون خودکش حملہ آور گرفتار کرنے کا دعویٰ، میڈیا کے سامنے پیش

کوئٹہ میں حکومت بلوچستان نے ایک مبینہ خاتون خودکش حملہ آور کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسے دہشتگردی کی کارروائی کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ حکام کے مطابق خاتون کو چند روز قبل ضلع خضدار کے علاقے زہری سے گرفتار کیا گیا۔
منگل کو وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، معاون خصوصی برائے میڈیا شاہد رند، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات اور آئی جی پولیس طاہر خان کے ہمراہ اس کارروائی کی تفصیلات بیان کیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق یہ کارروائی انسانی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی جو مقامی افراد نے فراہم کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو طویل عرصے کے بعد اس نوعیت کی معلومات موصول ہونا ایک مثبت پیش رفت ہے۔
اپنے بیان میں گرفتار خاتون نے اپنا نام لائبہ بتایا جبکہ گھر اور گاؤں میں اسے فرزانہ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنا تعلق ضلع خضدار کی تحصیل زہری کے گاؤں چشمہ سے بتایا۔ خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ "گزشتہ سال جولائی میں میرا رابطہ کالعدم ٹی ٹی پی کے کمانڈر ابراہیم عرف قاضی ماما سے ہوا اور پھر ملاقات بھی ہوئی جس نے میری ذہن سازی کی اور پھر میں خودکش حملے کے لیے تیار ہوئی۔"
انہوں نے کہا کہ کمانڈر ابراہیم نے بعد ازاں ان کا رابطہ کمانڈر دل جان سے کروایا جس نے کہا کہ وہ میرا رابطہ بی وائی سی کی ڈاکٹر صبیحہ سے کروائے گا۔ اس نے ہدایت کی اور کہا کہ مزید لڑکیوں کو بھی خودکش حملے کے لیے تیار کیا جائے۔ بعد ازاں کمانڈر نے مجھے کیمپ لے جانا تھا اور خودکش حملے کے ہدف کے بارے میں بتانا تھا لیکن اس سے پہلے ہی گرفتار کرلیا گیا۔
خاتون نے کہا کہ اسے غلط راستے پر ڈالا گیا اور وہ اپنے عمل پر نادم ہے۔ انہوں نے دیگر خواتین سے اپیل کی کہ وہ ایسے گروہوں سے دور رہیں۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گرفتار خاتون کو تین مہینوں کے لیے ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹر میں رکھا جائے گا جہاں تفتیش اور بحالی کے دوران اس کا مکمل خیال رکھا جائے گا اور کسی قسم کی جسمانی یا ذہنی ہراسانی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اور دہشتگردوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ریاست انسانی وقار کا احترام کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خاتون دوران اور بعد از گرفتاری سکیورٹی فورسز کے بہتر رویے کی وجہ سے ہی تعاون پر آمادہ ہوئی ہے اور وہ دوسروں کو بھی اس راستے سے دور رہنے کا پیغام دینا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹرز میں ایسے افراد کی بحالی پر کام کیا جائے گا، انہیں حقائق سے آگاہ کیا جائے گا اور ماہرین نفسیات اور ڈاکٹرز ان کے ساتھ کام کریں گے تاکہ وہ دوبارہ معاشرے کا مفید حصہ بن سکیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس خاتون کی ایک بڑی عمر کے شخص سے شادی ہوئی تھی جس کی یہ دوسری شادی تھی اور ان کے درمیان تعلقات بہتر نہیں تھے۔ اسی کمزوری کو بنیاد بنا کر اس کا استحصال کیا گیا۔ اس کا ایک کزن بھی بی ایل اے کا سرگرم رکن تھا جس نے اسے اس راستے پر ڈالنے میں کردار ادا کیا۔ اسے یہ احساس دلایا گیا کہ گھر میں اسے عزت نہیں مل رہی اور اسی وجہ سے اسے اس کام کی طرف مائل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر نوجوانوں کو ذاتی مسائل، خاندانی تنازعات اور سوشل میڈیا کے ذریعے نشانہ بناتے ہیں اور یہ ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں خواتین خودکش حملہ آوروں کی گرفتاری کا یہ سلسلہ نیا نہیں۔ بی ایل اے کی جانب سے خواتین کو حملوں میں شامل کرنے کے رجحان میں اضافے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے بھی متعدد کارروائیوں میں خواتین حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کے دعوے سامنے آچکے ہیں۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ کالعدم تنظیمیں بلوچ نوجوانوں اور خواتین کو ورغلا کر انتہا پسندی اور دہشتگردی کی طرف لے جا رہی ہیں اور یہ ایک لاحاصل جنگ ہے جس کا نتیجہ انسانی جانوں کے ضیاع اور ان کے اپنے خاندانوں اور معاشرتی نقصان کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ معاشرے کی روایات اور غیرت خواتین کی دہشتگرد کارروائیوں میں استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دیتیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست اور سکیورٹی فورسز ایک ذمہ دار نظام کے تحت کام کر رہی ہیں اس لیے کارروائیوں کے دوران خاص طور پر خواتین کے معاملے میں انتہائی احتیاط برتی جاتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی ایل اے ، بشیر زیب اینڈ کمپنی نے خواتین کے احترام کو ختم کر دیا ہے جس کی وجہ سے اب سکیورٹی فورسز کو ان گاڑیوں کی بھی تلاشی لینا پڑتی ہے جن میں خواتین موجود ہوں جبکہ ماضی میں ایسی گاڑیوں کو بغیر چیکنگ جانے دیا جاتا تھا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچ معاشرے کو اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور اب عوام میں شعور پیدا ہو رہا ہے کہ یہ ایک لاحاصل جنگ ہے۔ سکیورٹی اداروں کو ہیومن انٹیلیجنس کی بنیاد پر معلومات بھی ملنا شروع ہو گئی ہیں جو ایک حوصلہ افزا بات ہے۔
سرفراز بگٹیٰ نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے اس جنگ سے لا تعلقی اختیار کی ہوئی تھی۔ علیحدگی پسندوں کے نام پر پروگرام شروع کئے گئے اور 210 پنجابیوں کو قتل کرنےوالے کالعدم بی ایل اے کے کمانڈر مجید لانگو کے لیے اسمبلی میں فاتحہ خوانی کی گئی۔ موجودہ حکومت نے اس جنگ کا قانونی اور سیاسی محاذ سنبھالا ہے اور فورسز سے دو قدم آگے چل رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے عسکری محاذ سنبھالا ہے اور ایک سال میں ایک ہزار سے زائد ہارڈکور (سخت گیر)دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں تاہم دہشتگردی میں اضافے کی ایک وجہ ماضی کی مفاہمتی پالیسی ہے خاص طور پر 2018 کے بعد جب بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے کمانڈرز کو جیلوں سے رہا کیا گیا۔ ان کے مطابق گوریلا جنگ میں مفاہمت کی پالیسی ہمیشہ ریاست کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
لاپتہ افراد کے مسئلے پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کچھ لوگوں کی سیاست اس مسئلے پر مبنی تھی لیکن حکومت نے اسے قانون سازی کے ذریعے ہمیشہ کے لیے حل کر دیا ہے۔ مشتبہ افراد کے لیے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں ایک مرکز فعال ہو چکا ہے جہاں زیر حراست افراد کو رکھا جا رہا ہے اور ان کے اہلخانہ سے ملاقاتیں کرائی جا رہی ہیں، مجسٹریٹ بھی جارہے ہیں۔ جبکہ تربت میں دوسرا مرکز ایک ماہ کے اندر فعال ہوگا جس کے لیے 25 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانا کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ملک کو توڑنے کی کوشش ہے اور کوئی بھی ریاست اسے برداشت نہیں کر سکتی۔ جو لوگ ہتھیار چھوڑ کر واپس آنا چاہتے ہیں، ان کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
افغانستان کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دوحا معاہدے میں یقین دہانیوں کے باوجود افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کے کمانڈرز وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ افغانستان میں 27 دہشتگرد تنظیمیں فعال ہی، جن میں سے صرف ایک یا دو پاکستان کے خلاف ہیں، باقی دنیا کے لیے خطرہ ہیں اور دنیا کو اس صورتحال پر توجہ دینی چاہیے انہیں ایک اور نائن الیون کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

شیئر: