Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کا ’آپریشن غضب للحق‘ عارضی طور پر روکنے کا اعلان

پاکستان نے نے افغانستان میں ’دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے خلاف جاری‘ کے خلاف جاری ’آپریشن غضب للحق‘ کو عارضی طور روکنے کا اعلان کیا ہے۔
بدھ کو پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا سائیٹ ایکس پر لکھا کہ ’آنے والے اسلامی تہوار عیدالفطر کے پیشِ نظر، اور برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، ریاستِ قطر اور جمہوریہ ترکیہ کی درخواست پر، حکومتِ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے خلاف جاری ’آپریشن غضب للحق میں عارضی وقفے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
عطا تارڑ نے لکھا کہ ’یہ وقفہ 18/19 مارچ 2026 کی درمیانی شب سے لے کر 23/24 مارچ 2026 کی درمیانی شب تک نافذ العمل ہوگا۔ پاکستان یہ اقدام نیک نیتی اور اسلامی اقدار کے مطابق پیش کر رہا ہے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی قسم کا سرحد پار حملہ، ڈرون حملہ یا پاکستان کے اندر کوئی دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تو ’آپریشن غضب للحق‘ فوری طور پر نئی شدت کے ساتھ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
خیال رہے بدھ کے روز افغانستان میں کابل کے مبینہ منشیات کے علاج کے مرکز پر پاکستانی حملے میں ہلاک ہونے والے سینکڑوں افراد میں سے بعض کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے رضاکار ایمبولینسوں کے ایک قافلے سے درجنوں سادہ لکڑی کے تابوت نکال کر بھاری مشینوں کے ذریعے پتھریلی زمین میں کھودی گئی اجتماعی قبر تک لے گئے۔
قبر کے کنارے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا کہ یہ بے گناہ افراد تھے جنہیں ’مجرموں‘ نے نشانہ بنایا، اور یہ واقعہ اسلامی مقدس مہینے رمضان کے اختتام سے چند روز قبل پیش آیا۔
انہوں نے سوگواران سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’آج کا دن افسوسناک ہے۔ میں افغانستان، خصوصاً شہداء کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’ہم بدلہ لیں گے۔ ہم کمزور اور بے بس نہیں ہیں۔ تم اپنے جرائم کے نتائج دیکھو گے۔‘
تاہم حقانی نے یہ بھی اشارہ دیا کہ لڑائی کے خاتمے کے لیے حکومت مذاکرات کو ترجیح دیتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں، اس لیے ہم سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
طالبان حکام کے مطابق پیر کے حملے میں تقریباً 400 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جو دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں اب تک کا سب سے مہلک واقعہ ہے۔
اسلام آباد، جو اس مرکز پر جان بوجھ کر حملہ کرنے کی تردید کرتا ہے، کابل پر الزام لگاتا ہے کہ وہ سرحد پار حملوں میں ملوث شدت پسندوں کو پناہ دیتا ہے، جبکہ افغانستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
 

شیئر: