Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کابل میں افغان طالبان کے ڈرون، میزائل اور گولہ بارود کے ذخیرے کو نشانہ بنایا: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ’پاکستان نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر افغانستان پر 81 حملے کیے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے افغان طالبان کی جانب سے کابل میں منشیات بحالی کے مرکز پر پاکستان کے حملے کی تردید کی ہے۔
بدھ کو جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’پاکستان نے کابل میں منشیات بحالی کے مرکز کو نہیں بلکہ افغان طالبان کے ڈرون، میزائل اور گولہ بارود کے ذخیرے کو نشانہ بنایا۔‘
انہوں نے اس حوالے سے مزید کہ کہا کہ ’حملے میں وہ اسلحہ اور گولہ بارود پھٹا تو آگ کے شعلے کافی دیر تک جلتے رہے جو کابل کے رہائشیوں نے دیکھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ افغان طالبان کی پرانی عادت ہے کہ وہ نشئیوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جتنے خودکش حملہ آور یہاں پاکستان میں پھٹے ہیں وہ سب نشئی تھے یا نشے کے زیرِاثر تھے۔‘
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ ’ہم نے افغانستان پر 81 حملے کیے ہیں اور یہ حملے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے، ہم نے افغانوں کو نہیں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔‘
’آپریشن غضب للحق میں ہم نے افغان طالبان رجیم کی 44 چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا اورمجموعی طور پر 707 افغان طالبان اور دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔‘
ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ ’افغان طالبان نے پاکستان کی 53 پوسٹوں پر حملے کیے، انہوں نے آغاز کیا ہم نے جوابی کارروائی کی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف جو ڈرون استعمال کیے وہ اسے انڈیا نے فراہم کیے تھے۔‘
ڈی جی آٗئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ ’ہم نے افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کی۔ یہ جنگ دہشت گردوں اور اُن کے ہینڈلرز نے پاکستان پر مسلط کی ہے۔‘
’وانا کیڈٹ کالج پر حملہ ہوا جس میں پانچ دہشت گرد مارے گئے تھے اور پانچوں افغانستان سے پاکستان آئے تھے۔ اسلام آباد میں ترلائی کی مسجد پر خودکش حملے میں بے گناہ بچے اور نمازی شہید ہوئے۔اس حملے میں ملوث خودکش حملہ آور بھی افغانستان سے آیا تھا۔‘

شیئر: